رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 23° / 11°فجر 05:23ظہر 12:16عصر 16:10مغرب 17:46عشا 19:07
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ایران پر نئے اسرائیلی حملے عالمی منڈیوں کے لیے تباہ کن ہوں گے: عراقچیکترینہ کیف: وکی کوشل عملی طور پر سمجھدار ہیں، میں نظریاتی طور پر سمجھدار ہوںحنا الطاف کا خواتین کو درپیش پابندیوں پر طنز، سوشل میڈیا پر نئی بحثلاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی توسیع کی منظوری، مسافروں کی سہولیات بہتر بنانے کی ہدایتبلاول: پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے، وزیر داخلہ ایوان کو بریف کریںفیفا انڈر 15 ورلڈ کپ: پاکستان نے بہاماس کو 5-0 سے شکست دے دیامریکی نائب صدر کا ایران سے مذاکرات بحال کرنے کے لیے محسن رضائی کو خطایرانی فلم ساز جعفر پناہی کو پانچ سال قید کی سزا، سفر اور سوشل میڈیا پر پابندیانتخابی اصلاحات: اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کرنے کی وزیراعظم کی ہدایتفائنل سے قبل مائیک ہیسن: قومی ٹیم ابھی بہترین کرکٹ نہیں کھیلیفائنل سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کی لاہور میں بھرپور ٹریننگطیب اردوان کی ٹرمپ سے فون پر گفتگو: ہرمز اور یمن کے مسائل سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش

سینیٹ اجلاس میں محسن نقوی کا دعویٰ: جے یو آئی (ف) نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج مانگا تھا

سینیٹ اجلاس میں محسن نقوی کا دعویٰ: جے یو آئی (ف) نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج مانگا تھا
فائل فوٹو: وزیر داخلہ محسن نقوی — تصویر: بشکریہ app.com.pk

اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ کو سینیٹ کے ہنگامہ خیز اجلاس میں دعویٰ کیا کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما ماضی میں حکومت سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی درخواست کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بات ایوان میں موجود پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہی۔

محسن نقوی نے بیرسٹر علی ظفر کا نام لے کر کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو گورنر راج سے پہلے ہمارے پاس آ کر کہتے تھے کہ گورنر راج لگائیں اور ہمیں ان سے نجات دلائیں۔ ان کا اشارہ جے یو آئی (ف) کی طرف تھا۔

ان کے اس بیان پر جے یو آئی (ف) کے ارکان، جن میں سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی شامل تھے، نے احتجاج کیا۔ چیئر نے بار بار ارکان سے کہا کہ وہ شور شرابے سے گریز کریں اور وزیر داخلہ کو بات مکمل کرنے دیں۔

وزیر داخلہ نے یہ جواب جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک روز پہلے دیے گئے بیان پر دیا، جس میں وزیر داخلہ کے دورۂ ایران کے مقصد کا ذکر بھی شامل تھا۔ محسن نقوی نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستانی حکام دفاعی معاہدے پر بات چیت کے لیے ایران گئے تھے۔ ان کے مطابق یہ دورہ خطے کے جاری بحران سے نمٹنے کے لیے تھا۔