رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 14° صاف 22° / 12°فجر 05:21ظہر 12:16عصر 16:12مغرب 17:49عشا 19:10
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
رپورٹ تحریر نہیں کی جا سکتی: فراہم کردہ متون میں ایل این جی ٹرمینل منصوبے سے متعلق کوئی معلومات موجود نہیںچین کے صنعتی منافع میں ستمبر کے دوران 14.4 فیصد اضافہ، معیشت میں تقسیم برقرارووچچ کی شکست تسلیم، طلبہ کی حمایت یافتہ فہرست سربیا کے انتخابات میں کامیابامریکا کی حراست میں موجود افغانوں کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے کے لیے پرواز کا منصوبہ، اتحادیوں کے رشتہ دار بھی شاملقومی اسمبلی نے فرنٹیئر کانسٹیبلری تنظیم نو سمیت اہم بلز منظور کر لیےکرس براؤن کو لندن نائٹ کلب حملے پر معطل سزا سنا دی گئیلولا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب، فلاویو بولسونارو کا شکست تسلیم کرنے سے انکاراسٹار ٹریک کی اصل سیریز کے “چیکوف” والٹر کوینگ 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئےحارث رؤف کا بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز سے معاہدہصائم ایوب تین ملکی ون ڈے اسکواڈ سے ریلیز، صاحبزادہ فرحان کی شمولیتلام فیشن ویک کا تیسرا روز، مشرقی و مغربی ملبوسات کی نمائششیرباز مری نے قازقستان میں نومیڈ ایم ایم اے چیمپئن شپ کا گولڈ میڈل جیت لیا

لولا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب، فلاویو بولسونارو کا شکست تسلیم کرنے سے انکار

لولا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب، فلاویو بولسونارو کا شکست تسلیم کرنے سے انکار
فائل فوٹو: لولا ڈا سلوا کی صدارتی انتخاب میں فتح — تصویر: بشکریہ english.aawsat.com

برازیلیا: لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے برازیل کے صدارتی رن آف انتخاب میں کامیابی حاصل کر کے چوتھی مدت کے لیے صدارت حاصل کر لی ہے۔ ان کے حریف فلاویو بولسونارو نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سو فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر الیکشن کورٹ نے بتایا کہ 80 سالہ لولا تقریباً 44 لاکھ ووٹوں سے آگے رہے۔ انہوں نے 51.79 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ سینیٹر اور 45 سالہ بولسونارو کو 48.21 فیصد ووٹ ملے۔

لولا اکتوبر کے اوائل میں پہلے مرحلے میں بولسونارو سے معمولی فرق سے پیچھے رہے تھے۔ گارجین کے مطابق 1980 کی دہائی میں جمہوریت کی واپسی کے بعد سے برازیل میں پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہنے والا کوئی امیدوار دوسرے مرحلے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔

سائو پالو میں کھچاکھچ بھرے ہال میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے لولا نے کہا: “یہ انتخاب انکار پسندی کی شکست تھا۔” انہوں نے مزید کہا: “یہ جمہوریت تھی جس نے یہ ممکن بنایا۔”

انہوں نے یہ بھی کہا: “یہ ملک کسی کا پچھواڑا بننا قبول نہیں کرے گا۔” انہوں نے عہد کیا کہ وہ جنس یا مذہب سے قطع نظر تمام برازیلی شہریوں کا احترام کریں گے۔

لولا منگل کو 81 برس کے ہو جائیں گے۔ وہ 5 جنوری 2027 کو اپنی چوتھی غیر متواتر مدت کا آغاز کریں گے۔

بولسونارو نے اس وقت خطاب کیا جب لولا اپنی فتح کی تقریر کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتیجہ تسلیم کرنا “ناممکن” ہے اور ان کی قانونی ٹیم انتخاب کو کالعدم قرار دلوانے کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے سپریم کورٹ کے جج کرسچیانو زانین کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس کے تحت ووٹنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھا کر شام 7 بجے تک کر دیا گیا۔ بولسونارو نے اسے “غیر معمولی، ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ ان کے بقول یہ “کھیل جاری ہوتے ہوئے کھیل کے اصول بدلنے” کے مترادف تھا۔

زانین نے ووٹنگ ختم ہونے سے تین منٹ قبل فیصلہ سنایا۔ توسیع دونوں امیدواروں کی درخواستوں کے بعد کی گئی۔ گارجین کے مطابق بولسونارو کی انتخابی مہم نے بھی الیکشن کورٹ سے ووٹنگ کے اوقات بڑھانے کی درخواست کی تھی۔ بعض پولنگ مقامات پر شام کے وقت الجھن کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ووٹروں کی شرکت لولا کے لیے سازگار دکھائی دی۔ پہلے مرحلے میں ووٹ نہ ڈالنے کی شرح 21.08 فیصد کے ریکارڈ سطح پر رہی، جس کے بارے میں گارجین کا کہنا ہے کہ اس سے لولا کے ووٹرز زیادہ متاثر ہوئے کیونکہ وہ عموماً پولنگ اسٹیشنوں سے زیادہ فاصلے پر رہتے ہیں۔ رن آف میں یہ شرح کم ہو کر 19.21 فیصد رہ گئی۔

فلاویو بولسونارو سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے ہیں جنہیں 2022 میں لولا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ جائر بولسونارو نے بھی شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ بعد ازاں انہیں بغاوت کی کوشش کے الزام میں سزا سنائی گئی۔

لولا کے وزیر صحت الیگزینڈر پدیلا نے نتیجے کو “ایک عظیم فتح، صرف برازیل کے لیے نہیں” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ “باقی لاطینی امریکا اور دنیا کے لیے ایک اہم اشارہ” ہے۔

لولا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ کامیابی خطے میں ٹرمپ کے اتحادی دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے امیدواروں کی فتوحات کے رجحان کے برعکس ہے۔ لاطینی امریکا کی سب سے بڑی معیشت برازیل کی سالانہ جی ڈی پی 2.6 ٹریلین ڈالر ہے۔

جشن منانے کے لیے سائو پالو اور ریو ڈی جنیرو کے سینیلینڈیا اسکوائر میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ ریو میں بولسونارو کے حامی 51 سالہ روڈریگو ویلنٹم نے کہا: “ملک تباہ ہو رہا ہے۔”