تہران میں مکہ دفاعی معاہدے کے وفد کی ایرانی قیادت سے ملاقات، علاقائی سلامتی پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

تہران: پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن نے پیر 26 اکتوبر 2026 کو ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضاعی نے وفد کا خیرمقدم کیا۔ وفد نے صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔
ایران انٹرنیشنل کے مطابق چاروں ممالک نے اجلاس کے اختتام پر علاقائی امن و سلامتی پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے اگست میں مکہ باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں اجتماعی دفاع کا عہد شامل ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے حوالے سے نیوزکورڈ نے بتایا کہ صدر پزشکیان نے علاقائی تعاون گہرا کرنے اور اختلافات حل کرنے کے لیے ایران کی آمادگی ظاہر کی اور مسلم ممالک کے درمیان اتحاد پر زور دیا۔ سعودی عرب نے بیان میں کہا کہ وفود کشیدگی کم کرنے، علاقائی سلامتی بڑھانے اور استحکام کے راستے تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ایجنڈا پہلے سے طے نہیں تھا، تاہم بات چیت میں خطے کو درپیش اہم ترین خطرات زیر غور آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران تجویز ہوا تھا جسے ایران نے سراہا، اور یہ ملاقات خطے کے ممالک کے مفادات اور فیصلوں پر مبنی علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی، لبنان اور فلسطین کی صورتحال اور ایران پر فوجی حملے کے اثرات بھی موضوعات میں شامل تھے۔ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے تیز ہیں اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان باہمی دھمکیاں بڑھ رہی ہیں۔
ایران انٹرنیشنل کے مطابق اس سفارتی پیش رفت پر ایران کے اندر تنقید بھی ہوئی۔ کیہان اخبار کے مدیر حسین شریعتمداری نے اپنے مضمون میں کہا کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان امریکا کے بہت قریب ہیں اور تہران و واشنگٹن کے درمیان قابل اعتبار ثالث نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایران حوثیوں کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے اجلاس کو نئے علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کا موقع قرار دیا تھا۔











