ایران کا امریکا پر عدم سنجیدگی کا الزام، بقائی: سفارت کاری کا دروازہ کھلا ہے

تہران: ایران نے امریکا پر مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا گزشتہ دو برس سے مذاکرات اور اپنی شرائط مسلط کرنے کے درمیان فرق نہیں کر پا رہا۔ ان کے مطابق واشنگٹن مذاکرات کو باہمی مفاہمت کے بجائے اپنی شرائط منوانے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
بقائی نے کہا کہ ایران نے اپنے عوام اور عالمی برادری پر واضح کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کے لیے سنجیدہ اور ثابت قدم ہے اور اس نے کبھی مذاکرات کا راستہ بند نہیں کیا۔
بقائی نے جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کو اتوار کو شائع ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ تہران “کسی بھی صورتحال” کے لیے تیار ہے، مگر سفارت کاری کی گنجائش برقرار رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں کو امریکا پر اعتماد نہیں اور ملک کے دفاع کے لیے پوری طاقت سے تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پیغامات ثالثوں کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ امریکا کم از کم خیر سگالی اور سفارتی راستہ اپنانے کا عزم بھی ظاہر نہیں کر سکا۔ انہوں نے ایک سال سے کم عرصے میں مذاکرات کے دوران ایران پر دو حملوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان سے واشنگٹن کی عدم سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق امریکا بار بار ایران کے “مکمل ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
بقائی نے یورپی ممالک پر بھی تنقید کی کہ وہ آزاد پالیسی اپنانے کے بجائے امریکا کو خوش کرنے کی راہ پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب یورپی ممالک نے جوہری معاملے میں تعمیری کردار چھوڑ کر واشنگٹن کا ساتھ دیا۔
اورینوکو ٹریبیون کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جنگ 28 فروری 2026 کو اس وقت شروع ہوئی جب مسقط اور جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تین دور ہو چکے تھے اور ویانا میں تکنیکی بات چیت ہونا تھی۔ شدید لڑائی 40 دن بعد 8 اپریل کو جنگ بندی پر رکی، جبکہ جون میں ایران اور امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے بعد میں فوجی حملوں اور تیل فروخت کے لائسنس منسوخ کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں بقائی نے کہا کہ جنگ سے پہلے یہ کھلی تھی اور ایران صدیوں سے اس کا محافظ رہا ہے۔ ان کے بقول امریکا اور اسرائیل نے اس آبی گزرگاہ اور خلیجی ممالک کی سرزمین کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیا، اس لیے ایران کو قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا پڑے جو بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز ہیں۔











