چین کے صنعتی منافع میں ستمبر کے دوران 14.4 فیصد اضافہ، معیشت میں تقسیم برقرار

بیجنگ: چین کی صنعتی کمپنیوں کے منافع میں ستمبر کے دوران زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا، تاہم معیشت میں بڑھتی ہوئی تقسیم کاروباری آمدنی پر دباؤ ڈالتی رہی، سرکاری اعداد و شمار میں منگل کو یہ بات سامنے آئی۔
نیشنل بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق گزشتہ ماہ منافع میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 14.4 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے مقابلے میں اگست میں اضافہ 4.2 فیصد تھا۔
سال کے پہلے نو ماہ میں منافع 15.5 فیصد بڑھا۔ جنوری سے اگست کی مدت میں یہ اضافہ 15.7 فیصد تھا۔
یہ اعداد و شمار ان کمپنیوں پر مشتمل ہیں جن کی بنیادی کاروباری سرگرمیوں سے سالانہ آمدنی کم از کم 2 کروڑ یوان (30 لاکھ ڈالر) ہے۔
مختلف شعبوں کے درمیان فرق نمایاں رہا۔ کمپیوٹر، مواصلات اور دیگر الیکٹرانک آلات کی تیاری کے زمرے میں پہلے نو ماہ کے دوران منافع 103.8 فیصد بڑھ گیا۔ فرنیچر سازی کے شعبے میں 51.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث یہ سب سے کمزور کارکردگی دکھانے والے شعبوں میں شامل رہا۔
رائٹرز کے مطابق برآمدات پر انحصار کرنے والی کمپنیاں زیادہ غیر یقینی صورتحال کے لیے تیار ہو رہی ہیں کیونکہ بڑھتے ہوئے تجارتی سرپلس سے بیرونی دباؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ملکی طلب سے وابستہ کمپنیاں کمزور کھپت کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا منافع میں اضافہ برقرار رہ سکے گا۔
تیسری سہ ماہی میں معیشت 4.5 فیصد کی شرح سے بڑھی، جو توقع سے زیادہ تھی۔ اس سے چین 4.5 سے 5.0 فیصد کے سالانہ ترقی کے ہدف کے قریب پہنچ گیا ہے۔ تاہم شعبوں کے درمیان فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحالی بدستور غیر متوازن ہے۔ بعض شعبوں میں مسلسل کمزوری کمپنیوں کے منافع کو متاثر کر رہی ہے۔
دباؤ کمپنی کی سطح پر بھی نظر آیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی سی اے ٹی ایل کے خالص منافع میں حالیہ سہ ماہی کے دوران تیزی سے سست روی آئی۔ الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری مارکیٹ میں سخت مسابقت نے ایسے وقت میں منافع کے مارجن کو دبا دیا جب چین میں گاڑیوں کی فروخت مندی کا شکار تھی۔











