پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں کامیاب ہوں گی: یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی جاری کوششوں میں کامیابی حاصل کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس نازک مرحلے پر مفاہمت اور مصالحت کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور دعا ہے کہ یہ کوششیں بارآور ثابت ہوں۔
پیر کو سابق وفاقی وزیر ملک مختار اعوان کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ تنازع کے دوران تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کر کے دنیا پر ثابت کیا کہ وہ ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران پاکستان کے طرز عمل نے دنیا کو دکھایا کہ ملک باصلاحیت قیادت کے ہاتھوں میں ہے۔
سابق وفاقی وزیر ملک مختار اعوان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ ساتھی تھے اور انہوں نے صوبائی و وفاقی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کے صاحبزادے اور پوتے بھی پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔
مہنگائی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریکیں یورپ میں بھی جاری ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ دیگر ممالک کو بھی درپیش ہے۔ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی اور صوبے کے قیام کے حق میں قراردادیں منظور کرائیں۔ پارٹی نے سینیٹ سے متعلقہ بل بھی منظور کرایا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب پسماندہ خطہ ہے اور پیپلز پارٹی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے ہر اقدام کی حمایت کرتی ہے۔
گورنر راج اور آئینی طریقہ کار
گورنر راج کے نفاذ سے متعلق سوال پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ گورنر راج کسی کی خواہش نہیں ہوتا بلکہ یہ آخری آپشن کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے، جو مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اپنایا گیا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی جانب مارچ کی بار بار کالز سے ملک میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہوئی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر راج کے معاملے میں آئینی طریقہ کار پر مکمل عمل کیا گیا، جس میں صدر مملکت کی رائے اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مؤقف شامل تھا۔ مشترکہ اجلاس کے دوران سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا گیا اور اکثریتی فیصلے کو تسلیم کیا گیا۔
ملک میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورت حال پر انہوں نے کہا کہ حالیہ اجلاسِ ایپکس کمیٹی میں عسکری اور سیاسی قیادت نے شرکت کی، جس میں دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کی بہتری، عوامی فلاح و بہبود، امن اور ترقی کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں انہوں نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا تھا، جو اب بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت اضافی 800 ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی تھی، تاہم یہ فنڈز استعمال نہیں کیے جا سکے۔











