مصری پارلیمنٹ کی سعودی عرب کے دفاع میں فوجی معاونت کی منظوری، حوثی حملوں میں شدت

قاہرہ: مصری پارلیمنٹ نے پیر کو فوج کو سعودی عرب کے دفاع میں معاونت فراہم کرنے کی اجازت دے دی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے ایران نواز حوثیوں کے خلیجی مملکت پر حملوں میں شدت آ گئی ہے اور قاہرہ کے براہ راست علاقائی تنازع میں شامل ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
پارلیمنٹ کے بیان کے مطابق دو تہائی اکثریت سے منظور ہونے والی اجازت کے تحت صدر عبدالفتاح السیسی سعودی عرب کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے اس کی سرزمین، خودمختاری اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ بیان میں نہ اقدامات کی تفصیل دی گئی اور نہ مصری فوج کی تعیناتی کا صاف اعلان کیا گیا۔
صدر السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے کہا تھا کہ اگر ریاض حوثیوں کے خلاف مدد مانگے تو اس کے دفاع کی منظوری دی جائے۔ حوثیوں کی پیش قدمی سے باب المندب کی آبی گزرگاہ بھی خطرے میں ہے جو نہرِ سویز کا راستہ ہے۔ فیصلہ 18، 19 اور 26 اکتوبر کے بند کمرہ اجلاسوں کے بعد ہوا اور اسپیکر ہشام بداوی کی صدارت میں پیر کو تیسرا اجلاس ہوا۔ پارلیمنٹ کے مطابق اجازت قومی دفاعی کونسل کے 18 اکتوبر کے فیصلوں سے مطابقت رکھتی ہے۔
مصر ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کرتا رہا ہے، مگر براہ راست لڑائی میں شریک نہیں ہوا۔ وہ اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی حصہ نہیں۔ وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے اس ماہ کہا تھا کہ معاہدے میں شمولیت پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔
مصر مارچ 2015 میں یمن جنگ کے ابتدائی مرحلے میں سعودی قیادت والے اتحاد میں بنیادی طور پر بحری شراکت دار کے طور پر شامل ہوا تھا۔ اس نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کے لیے جنگی جہاز بھیجے اور تقریباً 800 زمینی فوجی بھی تعینات کیے، مگر اس کا جنگی کردار محدود رہا۔ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد اس نے کوئی بڑی بیرونی زمینی تعیناتی نہیں کی۔ سعودی عرب سیسی دور میں مصر کو اربوں ڈالر کی امداد، مرکزی بینک میں ڈپازٹ اور توانائی فراہم کرتا رہا ہے۔
دی نیشن کے مطابق ایران نے مصر کو خبردار کیا تھا کہ یمن کی لڑائی میں شامل ہونے والے ممالک تنازع کو خطے سے باہر پھیلا سکتے ہیں۔ حوثیوں نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی آرامکو کو نشانہ بنایا ہے، جس سے پروازیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں۔ دی نیشن نے رپورٹ کیا ہے کہ حملوں میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 20 زخمی ہوئے۔











