رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° صاف 22° / 12°فجر 05:21ظہر 12:16عصر 16:12مغرب 17:49عشا 19:10
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
رپورٹ تحریر نہیں کی جا سکتی: فراہم کردہ متون میں ایل این جی ٹرمینل منصوبے سے متعلق کوئی معلومات موجود نہیںچین کے صنعتی منافع میں ستمبر کے دوران 14.4 فیصد اضافہ، معیشت میں تقسیم برقرارووچچ کی شکست تسلیم، طلبہ کی حمایت یافتہ فہرست سربیا کے انتخابات میں کامیابامریکا کی حراست میں موجود افغانوں کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے کے لیے پرواز کا منصوبہ، اتحادیوں کے رشتہ دار بھی شاملقومی اسمبلی نے فرنٹیئر کانسٹیبلری تنظیم نو سمیت اہم بلز منظور کر لیےکرس براؤن کو لندن نائٹ کلب حملے پر معطل سزا سنا دی گئیلولا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب، فلاویو بولسونارو کا شکست تسلیم کرنے سے انکاراسٹار ٹریک کی اصل سیریز کے “چیکوف” والٹر کوینگ 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئےحارث رؤف کا بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز سے معاہدہصائم ایوب تین ملکی ون ڈے اسکواڈ سے ریلیز، صاحبزادہ فرحان کی شمولیتلام فیشن ویک کا تیسرا روز، مشرقی و مغربی ملبوسات کی نمائششیرباز مری نے قازقستان میں نومیڈ ایم ایم اے چیمپئن شپ کا گولڈ میڈل جیت لیا

مصری پارلیمنٹ کی سعودی عرب کے دفاع میں فوجی معاونت کی منظوری، حوثی حملوں میں شدت

مصری پارلیمنٹ کی سعودی عرب کے دفاع میں فوجی معاونت کی منظوری، حوثی حملوں میں شدت
فائل فوٹو: مصری پارلیمنٹ کی عمارت — تصویر: بشکریہ arabcont.com

قاہرہ: مصری پارلیمنٹ نے پیر کو فوج کو سعودی عرب کے دفاع میں معاونت فراہم کرنے کی اجازت دے دی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے ایران نواز حوثیوں کے خلیجی مملکت پر حملوں میں شدت آ گئی ہے اور قاہرہ کے براہ راست علاقائی تنازع میں شامل ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

پارلیمنٹ کے بیان کے مطابق دو تہائی اکثریت سے منظور ہونے والی اجازت کے تحت صدر عبدالفتاح السیسی سعودی عرب کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے اس کی سرزمین، خودمختاری اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ بیان میں نہ اقدامات کی تفصیل دی گئی اور نہ مصری فوج کی تعیناتی کا صاف اعلان کیا گیا۔

صدر السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے کہا تھا کہ اگر ریاض حوثیوں کے خلاف مدد مانگے تو اس کے دفاع کی منظوری دی جائے۔ حوثیوں کی پیش قدمی سے باب المندب کی آبی گزرگاہ بھی خطرے میں ہے جو نہرِ سویز کا راستہ ہے۔ فیصلہ 18، 19 اور 26 اکتوبر کے بند کمرہ اجلاسوں کے بعد ہوا اور اسپیکر ہشام بداوی کی صدارت میں پیر کو تیسرا اجلاس ہوا۔ پارلیمنٹ کے مطابق اجازت قومی دفاعی کونسل کے 18 اکتوبر کے فیصلوں سے مطابقت رکھتی ہے۔

مصر ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کرتا رہا ہے، مگر براہ راست لڑائی میں شریک نہیں ہوا۔ وہ اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی حصہ نہیں۔ وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے اس ماہ کہا تھا کہ معاہدے میں شمولیت پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔

مصر مارچ 2015 میں یمن جنگ کے ابتدائی مرحلے میں سعودی قیادت والے اتحاد میں بنیادی طور پر بحری شراکت دار کے طور پر شامل ہوا تھا۔ اس نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کے لیے جنگی جہاز بھیجے اور تقریباً 800 زمینی فوجی بھی تعینات کیے، مگر اس کا جنگی کردار محدود رہا۔ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد اس نے کوئی بڑی بیرونی زمینی تعیناتی نہیں کی۔ سعودی عرب سیسی دور میں مصر کو اربوں ڈالر کی امداد، مرکزی بینک میں ڈپازٹ اور توانائی فراہم کرتا رہا ہے۔

دی نیشن کے مطابق ایران نے مصر کو خبردار کیا تھا کہ یمن کی لڑائی میں شامل ہونے والے ممالک تنازع کو خطے سے باہر پھیلا سکتے ہیں۔ حوثیوں نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی آرامکو کو نشانہ بنایا ہے، جس سے پروازیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں۔ دی نیشن نے رپورٹ کیا ہے کہ حملوں میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 20 زخمی ہوئے۔