صوبائی وزیر صحت بخت کاکڑ: بلوچستان میں دو سال سے پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا

کوئٹہ: صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں محکمہ صحت بلوچستان میں اصلاحات، حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام میں بہتری اور پولیو کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات میں ہونے والی پیش رفت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحتِ عامہ کی بہتری، بیماریوں سے بچاؤ اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ دو سال کے دوران پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونا اور ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی عدم موجودگی ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی، مؤثر حفاظتی اقدامات اور عوامی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے پولیو ورکرز، سیکیورٹی فورسز، علمائے کرام اور صحافیوں کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود پولیو کے خلاف جاری جدوجہد پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی ٹیم اور اسٹیک ہولڈرز کی کارکردگی کی تعریف بھی کی۔
یہ خیالات انہوں نے عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر کوئٹہ کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے، جس میں شہید پولیو ورکرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
تقریب میں شرکت
تقریب میں صوبائی اسمبلی کے رکن و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، صوبائی سیکریٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی، ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر امین اللہ مندوخیل، ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق، ای پی آئی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آفتاب کاکڑ، یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، گیٹس فاؤنڈیشن اور روٹری انٹرنیشنل کے نمائندوں سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز، سیاسی و مذہبی رہنماؤں، صحافیوں، پولیو ورکرز اور دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود حکومت کی توجہ بیماریوں سے بچاؤ، دستیاب انسانی وسائل کے مؤثر استعمال اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ کے ٹراما سینٹر کی بہتری اور صوبے کے تمام اضلاع میں طبی مراکز کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے طبی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو علاج کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطاب میں صوبے میں پولیو کے خلاف حاصل ہونے والی پیش رفت پر محکمہ صحت اور متعلقہ ٹیموں کو مبارکباد دی اور اسے بلوچستان کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کو مستقل برقرار رکھنے کے لیے مسلسل پولیو مہمات، مؤثر نگرانی اور عوامی تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے پولیو ورکرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔
پولیو کے خلاف عزم
سیکریٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی نے اپنے خطاب میں پولیو کے خلاف جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر صحت کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی عدم موجودگی اہم پیش رفت ہے، تاہم خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
اس لیے وائرس کی مسلسل نگرانی، بچوں میں غذائی قلت کے مسئلے سے نمٹنے اور حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
تقریب کے دوران پولیو مہمات میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ورکرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے پولیو ورکرز، علمائے کرام، صحافیوں اور قبائلی عمائدین و معتبرین کی حوصلہ افزائی کے لیے شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔
ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر امین اللہ مندوخیل، ای او سی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق، ای پی آئی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آفتاب کاکڑ اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے پولیو کے خاتمے کے لیے محکمہ صحت، ای او سی، عالمی شراکت داروں، پولیو ورکرز، سیکیورٹی فورسز، علماء کرام، صحافیوں اور مقامی عمائدین کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
مقررین نے زور دیا کہ بلوچستان میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے والدین، مقامی برادریوں اور تمام متعلقہ اداروں کا تعاون ضروری ہے تاکہ پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔


تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











