رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 22° جزوی بادل 22° / 11°فجر 05:23ظہر 12:16عصر 16:10مغرب 17:46عشا 19:07
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ایران پر نئے اسرائیلی حملے عالمی منڈیوں کے لیے تباہ کن ہوں گے: عراقچیکترینہ کیف: وکی کوشل عملی طور پر سمجھدار ہیں، میں نظریاتی طور پر سمجھدار ہوںحنا الطاف کا خواتین کو درپیش پابندیوں پر طنز، سوشل میڈیا پر نئی بحثلاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی توسیع کی منظوری، مسافروں کی سہولیات بہتر بنانے کی ہدایتبلاول: پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے، وزیر داخلہ ایوان کو بریف کریںفیفا انڈر 15 ورلڈ کپ: پاکستان نے بہاماس کو 5-0 سے شکست دے دیامریکی نائب صدر کا ایران سے مذاکرات بحال کرنے کے لیے محسن رضائی کو خطایرانی فلم ساز جعفر پناہی کو پانچ سال قید کی سزا، سفر اور سوشل میڈیا پر پابندیانتخابی اصلاحات: اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کرنے کی وزیراعظم کی ہدایتفائنل سے قبل مائیک ہیسن: قومی ٹیم ابھی بہترین کرکٹ نہیں کھیلیفائنل سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کی لاہور میں بھرپور ٹریننگطیب اردوان کی ٹرمپ سے فون پر گفتگو: ہرمز اور یمن کے مسائل سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش

بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں: رضوان سعید

بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں: رضوان سعید

امریکی میگزین میں لکھے گئے مضمون میں سفیر پاکستان نے امریکا میں بھارتی سفیر کے مضمون کا مدلل جواب دیا۔

سفیر پاکستان نے واضح کیا کہ بھارت مُسلسل سندھ طاس معاہدے کی ساخت ،تاریخ ، مقصد اور افادیت کو مسخ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ ستمبر 1960 میں کیا گیا سندھ طاس معاہدہ بھارت کی فیاضی یا پاکستان کورعایت نہیں بلکہ ایک عشرے سے جاری مذاکرات کا نتیجہ تھا اور اس قانونی سمجھوتہ کی تعمیل فریقوں پر لازم ہے، سمجھوتے کے تحت بھارت کو راوی، بیاس اور ستلج کے استعمال کا حق ملا جبکہ پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں کا حق ملا۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ سمجھوتے کو بھارت کی جانب سے ناانصافی پر مبنی قراردیا جانا ان حالات کو یکسر نظرانداز کرنا ہے جس میں اس معاہدے کیلئے مذاکرات کیے گئے تھے۔

سفیر پاکستان نے بھارت کا یہ الزام بھی مستردکردیا کہ پاکستان نے بھارت کے ہائیڈروپاور منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے، عدالت نے بھی تصدیق کی ہے کہ مغربی دریاؤں پر ہائیڈروپاور منصوبے متعین حدود کے مطابق ہونے چاہئیں۔

سفیر پاکستان کا کہنا تھاکہ اس صورتحال میں تنازع حل کرنے کی کوشش یاثالثی رکاوٹ نہیں بلکہ معاہدے کے تحت حاصل حق کا استعمال ہے، قانونی لحاظ سے سندھ طاس معاہدہ بدستور، مؤثر، نافذ العمل اور قانونی طور پر دونوں فریقین پر لاگو ہے۔

سفیر پاکستان نے دوٹوک انداز میں خبردارکیا کہ غیرمتعلقہ سیاسی یا سکیورٹی الزامات لگا کر کوئی ریاست عالمی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے بری الزمہ نہیں ہوسکتی، دہشتگردی کے بے بنیاد الزامات ہوں یا دیگر دوطرفہ تنازعات، یہ بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے، اس کا احترام نہ کرنے یا اسے پھر سے تحریر کرنے کا یکطرفہ حق نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ قانونی پوزیشن واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں ایسی کوئی شق ہی نہیں کہ کوئی فریق اسے یکطرفہ معطل یا ختم کردے، یہ اس وقت تک ختم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ دونوں حکومتوں کے درمیان باقاعدہ قابل توثیق معاہدہ نہ کرلیا جائے۔

رضوان سعید شیخ کا کہنا تھاکہ بھارت کو چاہیے کہ معاہدہ کے تحت اپنی زمہ داریاں ادا کرے اور ادارہ جاتی سطح پر اور تنازع حل کرنے کے میکانزم کے زریعے مذاکرات کرے۔

موضوعات: