رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 22° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
گوادر: عوامی حلقوں کا ٹیچنگ ہسپتال میں ادویات اور بھرتیوں کے اقدامات پر وزیراعلیٰ اور مولانا ہدایت الرحمن کا شکریہبارکھان: پی پی ایچ آئی کی ”صحت دہلیز“ ایپ سے گھر بیٹھے آن لائن طبی مشورہ ممکن، ڈسٹرکٹ منیجر غلام رسولسیکرٹری ایکسائز سید ظفر علی بخاری کا کوئٹہ کے بی اے مال میں محکمے کے آگاہی اسٹال کا دورہزیارت ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت بابِ زیارت، اسکولوں، سڑکوں اور واٹر سپلائی سمیت مختلف منصوبوں پر کام جاریکوئٹہ: چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی زیرصدارت انسداد پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس، ماحولیاتی نمونے منفیکوئٹہ: ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی کا کلی شابو میں ادارہ برائے خصوصی بچوں کا دورہبارکھان: ضلعی ناظم صحت ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کا ڈی ایچ کیو ہسپتال اور ایم سی ایچ سنٹر کا اچانک دورہدکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کی زیرصدارت پی پی ایچ آئی کی ماہانہ ریویو میٹنگلورالائی: ڈپٹی کمشنر کی زیرصدارت ضلعی تعلیمی گروپ کا اجلاس، بند اسکولوں کی فوری بحالی کی ہدایتکوئٹہ: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا ’’صحت دہلیز‘‘ ایپ کا اعلان، پہلے روز 791 کالز پر مفت طبی مشاورتچمن: کمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری کا دورہ، لائن ڈیپارٹمنٹس کا اجلاس، ماسٹر پلان اور ڈی ایچ کیو ہسپتال کا جائزہنصیرآباد: اُستا محمد میں ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کی صدارت میں میٹرک کے پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں آگاہی اجلاس

ایران کیساتھ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: ترجمان وائٹ ہاؤس

ایران کیساتھ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: ترجمان وائٹ ہاؤس

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ محسوس نہ ہو کہ ایران بامعنی مذاکرات کے لیے سنجیدگی سے میز پر آنے کو تیار ہے۔

کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد امریکا نے اب اقتصادی دباؤ بڑھانے پر توجہ مرکوز کرلی ہے، تاہم صدر ٹرمپ کے پاس فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی راستہ بحال کرنے کے لیے سرگرم ہے، قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے جمعرات کو تہران کا دورہ کیا اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

قطر کی کوششوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امریکا و ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ قطر اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں کردار ادا کرچکا ہے۔

قطری اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے عارضی مشترکہ بحری راہداری قائم کرنے اور آبی گزرگاہ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دوسری جانب امریکا نے ایران پر فوجی دباؤ کے ساتھ اقتصادی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے رواں ہفتے مختلف ممالک کو ایران کے ساتھ مالی روابط ختم کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے پابندیوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ثانوی پابندیوں کا عندیہ دیا تھا۔

ایرانی حکام نے امریکی پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ایران کے خلاف مکمل اقتصادی جنگ قرار دیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی دباؤ کے باوجود وہ اپنے قومی مفادات سے دستبردار نہیں ہوگا۔

ایران اور عمان بھی آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہے ہیں، تاہم آبنائے کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی شرائط پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے مرکزی بحری راستے سے بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں، جبکہ ایران اور عمان کے درمیان سفارتی مذاکرات بدستور جاری ہیں

موضوعات: