مالدیپ کے صدر کا دورۂ پاکستان، 20 مفاہمتی یادداشتیں طے، تجارتی حجم 200 ملین ڈالر تک لے جانے پر اتفاق

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 11 سال بعد مالدیپ کے کسی صدر کا دورہ پاکستان اہمیت کا حامل ہے۔ مالدیپ کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ مالدیپ کے طالب علموں کی بڑی تعداد پاکستانی اداروں میں زیرِ تعلیم ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈاکٹر اور طبی عملہ مالدیپ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ دو سال میں دوطرفہ تجارتی حجم کو 13 ملین سے بڑھا کر 200 ملین ڈالرز تک لے جانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تجارتی حجم میں اضافے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی اور مالدیپ کو آئی ٹی کے شعبے میں تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا واضح موقف ہے کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے، پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا بھارتی فیصلہ ناقابلِ قبول ہے اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدوں پر عملدرآمد تمام ملکوں کی ذمے داری ہے۔
مالدیپ کے صدر کا خطاب
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر معیزو نے کہا کہ بھرپور استقبال اور مہمان نوازی پر پاکستانی حکومت کے مشکور ہیں اور پاکستانی قیادت سے علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی 20 مفاہمتی یادداشتیں اہم پیش رفت ہیں اور پاکستان، مالدیپ بزنس فورم میں تجارتی و اقتصادی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔
مالدیپ کے صدر کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔











