کلام
75 تحریریں
اردو اور فارسی کی لازوال نظمیں اور غزلیں، مکمل متن اور مختصر تعارف کے ساتھ۔
آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
اب جو اک حسرت جوانی ہے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
ایک نوجوان کے نام
ایک پہاڑ اور گلہری
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
بچے کی دعا (لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری)
بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
ترانۂ ملی
تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے
جاوید کے نام
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
جوابِ شکوہ
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا
جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
ساقی نامہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
سلطان ٹیپو کی وصیت
سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا
شاہیں
شکوہ
طارق کی دعا
طالبِ علم
طلوعِ اسلام
غالب: آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
غالب: ابن مریم ہوا کرے کوئی
غالب: بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
غالب: جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
غالب: حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
غالب: درد منت کش دوا نہ ہوا
غالب: دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
غالب: دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
غالب: رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
غالب: سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
غالب: عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
غالب: عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
غالب: مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
غالب: نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
غالب: نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
غالب: نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
غالب: کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
غالب: کوئی امید بر نہیں آتی
غالب: کوئی دن گر زندگانی اور ہے
غالب: گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
غالب: ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
غالب: ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
غالب: ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
غالب: یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
غالب: یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
لا الٰہ الا اللہ
مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے
مردِ مسلمان
مرزا غالب
مسجدِ قرطبہ
میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
والدہ مرحومہ کی یاد میں
پرندے کی فریاد
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
ہمالہ
ہمدردی