رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
میر تقی میرؔ کی غزل۔

میر تقی میرؔ کی غزل۔
غزل
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھےدل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے
پاس ناموس عشق تھا ورنہکتنے آنسو پلک تک آئے تھے
وہی سمجھا نہ ورنہ ہم نے توزخم چھاتی کے سب دکھائے تھے
اب جہاں آفتاب میں ہم ہیںیاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے
کچھ نہ سمجھے کہ تجھ سے یاروں نےکس توقع پہ دل لگائے تھے
فرصت زندگی سے مت پوچھوسانس بھی ہم نہ لینے پائے تھے
میرؔ صاحب رلا گئے سب کوکل وے تشریف یاں بھی لائے تھے
مشکل الفاظ
- رنج: دکھ
- داغ: زخم کا نشان
- صدمے: چوٹیں، دکھ
- پاسِ ناموسِ عشق: عشق کی عزت کا خیال
- آفتاب: سورج، دھوپ
- سرو: ایک سیدھا درخت
- گل: پھول
- کبھو: کبھی (پرانی صورت)
- توقع: امید
- فرصتِ زندگی: زندگی کی مہلت
- تشریف: تشریف لانا: آنا (احترام سے)
پس منظر
چوتھا شعر، "اب جہاں آفتاب میں ہم ہیںیاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے"، اجڑی ہوئی جگہ کی تصویر ہے جہاں کبھی باغ تھا۔ مقطع، "میرؔ صاحب رلا گئے سب کوکل وے تشریف یاں بھی لائے تھے"، میں شاعر خود کو تیسرے شخص میں دیکھتا ہے۔ ریختہ کے مطابق میرؔ نے ساری عمر کسمپرسی اور ہنگاموں میں گزاری اور سکون کا کوئی لمبا دور انہیں نصیب نہ ہوا2۔
متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔
ماخذ
- ریختہ، میر تقی میرؔ: "رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/ranj-khiinche-the-daag-khaae-the-meer-taqi-meer-ghazals?lang=ur
- ریختہ، میر تقی میرؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/meer-taqi-meer/profile?lang=ur
- کلیاتِ میر، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/kulliyatimir
- ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur


