ساقی نامہ
فارسی اور اردو شاعری میں «ساقی نامہ» ایک پرانی صنف ہے، جس میں شاعر ساقی سے شراب مانگتا ہے۔ اقبال کے ہاں یہ شراب عشق، یقین اور خودی کی ہے [1]۔ مثنوی کی صورت میں لکھی گئی یہ طویل نظم…

علامہ محمد اقبال · بالِ جبریل
پس منظر
فارسی اور اردو شاعری میں «ساقی نامہ» ایک پرانی صنف ہے، جس میں شاعر ساقی سے شراب مانگتا ہے۔ اقبال کے ہاں یہ شراب عشق، یقین اور خودی کی ہے۔ مثنوی کی صورت میں لکھی گئی یہ طویل نظم «بالِ جبریل» (1935ء) میں شامل ہے123۔ پہاڑی وادی میں بہار کے منظر سے شروع ہو کر یہ امت کے حال پر دکھ اور پھر زندگی اور خودی کے فلسفے تک پہنچتی ہے۔ «لڑا دے ممولے کو شہباز سے» اسی نظم کا مصرع ہے۔
کلام
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسار
گل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفن
جہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میں
فضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیور
وہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئی
اچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئی
رکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہ
ذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیام
پلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روز
وہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائنات
وہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازل
اٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سے
زمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئے
ہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگ
پرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہے
گیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیا
گراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
دل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیم
مسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوش
تمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمام
حقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئی
لبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیب
بیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا
وہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فرد
عجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیا
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
شراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیا
مجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑا
خرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کر
ہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہے
تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دے
جگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کر
ترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر
جوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دے
مری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کر
بتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائنات
مرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاں
مرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گداز
امنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مری
مری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزار
مرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثبات
یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیر
مرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسے
دما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگی
اسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دود
گراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گل
یہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھی
یہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیر
یہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومنات
پسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیں
من و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیں
چمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہے
اسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھول
کہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حور
کہیں جرہ شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگ
کبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبور
فریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائنات
ٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظہ ہے تازہ شان وجود
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگی
بہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسند
سفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجاز
الجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسے
ہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کا
اتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میں
مذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوج
گل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہے
سمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیات
بڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفس
زمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہے
یہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہے
خودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائنات
خودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بند
اندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاک
ازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
زمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی
تجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئی
سبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواں
سفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہے
کرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میں
اسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سے
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیر
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے
خودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آب
وہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلند
خودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کر
وہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرام
یہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موت
یہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوش
خودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیں
تری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیں
بڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کر
خودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صید
جہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجود
ہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کا
یہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار
تو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشت
حقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگ
فروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار کہتی ہے بس
اگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
مشکل الفاظ
- خیمہ زن: خیمہ لگانے والا، ڈیرا ڈالنے والا
- ارم: جنت کا باغ
- دامنِ کوہسار: پہاڑ کا دامن
- سوسن و نسترن: دو پھولوں کے نام
- شہیدِ ازل: ازل سے شہید، یعنی لالے کا پھول جس کا رنگ خون جیسا ہے
- طیور: پرندے
- جوئے کہستاں: پہاڑی ندی
- سِل: پتھر کی سل، چٹان
- ساقیٔ لالہ فام: لالے کے رنگ والا ساقی
- مئے پردہ سوز: پردے جلا دینے والی شراب، یعنی حقیقت کھول دینے والا جذبہ
- ممولے: ایک ننھا پرندہ
- شہباز: باز، شکاری پرندہ
- شیشہ بازِ فرنگ: یورپ کا شعبدہ باز
- میر و سلطاں: امیر اور بادشاہ
- گراں خواب: گہری نیند والے
- کلیم: حضرت موسیٰؑ
- زنار پوش: زنار پہنے ہوئے، یعنی دل میں بت رکھنے والا
- خرافات: بے ہودہ باتیں
- خطیب: تقریر کرنے والا، واعظ
- حمیت: غیرت
- سالک: راہِ طریقت پر چلنے والا
- شرابِ کہن: پرانی شراب، یعنی پرانا جذبہ
- پیروں: بزرگوں، بوڑھوں
- دلِ مرتضیٰ، سوزِ صدیق: حضرت علیؓ کا دل اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا سوز
- شب زندہ دار: رات بھر عبادت کرنے والے
- گرداب: بھنور
- سیار: چلنے پھرنے والا
- مرغزار: سبزہ زار، چراگاہ
- غزالانِ افکار: خیالات کے ہرن
- دما دم: لگاتار
- یمِ زندگی: زندگی کا سمندر
- رمِ زندگی: زندگی کی دوڑ
- آب و گل: پانی اور مٹی، یعنی جسم اور مادی دنیا
- بے چگوں: بے مثل، جس کی کیفیت بیان نہ ہو سکے
- شش جہات: چھ سمتیں، یعنی ساری دنیا
- سومنات: ایک مشہور مندر؛ یہاں بت خانہ
- جرّہ: نر باز
- چکور: ایک پہاڑی پرندہ
- چنگ: پنجہ
- فالِ محمود: محمود (غزنوی) کی فال، یعنی بادشاہی کی آرزو
- ایازی: ایاز جیسی غلامی
- سرِ موئے: بال برابر
- فروغِ تجلی: جلوے کی روشنی
ماخذ
- Rekhta, «ساقی نامہ», Allama Iqbal: text, with note "(بالِ جبریل)". https://www.rekhta.org/nazms/saaqii-naama-huaa-khema-zan-kaarvaan-e-bahaar-allama-iqbal-nazms?lang=ur
- International Iqbal Society, Kulliyat-e-Iqbal (Urdu), Bal-e-Jibril, Manzumat, «ساقی نامہ»: text used for comparison. https://iqbal.com.pk/poetical-works/906-poetical-works/kuliyat-e-iqbal-urdu/bal-e-jibril/bal-e-jibril-manzomaat/664-saqi-nama.html
- International Iqbal Society, "Time Line": "1935: Published Bal-e-Jibril in Urdu". https://iqbal.com.pk/iqbal/time-line.html







