غالب: دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
یہ غزل اپنے رواں بحر اور سوالیہ ردیف "کیوں" کی وجہ سے گائی بھی بہت گئی ہے [1]۔ "قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں" غالب کے فلسفیانہ اشعار میں سرفہرست ہے: زندگی اور غم ساتھ ساتھ…

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2
پس منظر
یہ غزل اپنے رواں بحر اور سوالیہ ردیف "کیوں" کی وجہ سے گائی بھی بہت گئی ہے1۔ "قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں" غالب کے فلسفیانہ اشعار میں سرفہرست ہے: زندگی اور غم ساتھ ساتھ ہیں۔ دوسرے شعر میں شاعر نہ مندر میں ہے نہ حرم میں، بس راستے میں بیٹھا ہے اور کسی کو اسے اٹھانے کا حق نہیں۔
غزل
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوںروئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
جب وہ جمال دلفروز صورت مہر نیمروزآپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
دشنۂ غمزہ جاں ستاں ناوک ناز بے پناہتیرا ہی عکس رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضعراہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں
ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیںروئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں
مشکل الفاظ
- سنگ و خشت: پتھر اور اینٹ
- دیر: مندر، بت خانہ
- حرم: کعبہ اور اس کا احاطہ
- آستاں: چوکھٹ، دہلیز
- رہ گزر: راستہ
- جمال دلفروز: دل کو روشن کرنے والا حسن
- مہر نیمروز: دوپہر کا سورج
- نظارہ سوز: دیکھنے والے کی نظر جلا دینے والا
- دشنۂ غمزہ: ناز بھری نظر کا خنجر
- ناوک ناز: ناز کا تیر
- قید حیات: زندگی کی قید
- بوالہوس: ہوس پرست، لالچی
- حجاب پاس وضع: اپنی وضع داری کا لحاظ
- زار زار: بلک بلک کر
ماخذ
- ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (9 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/dil-hii-to-hai-na-sang-o-khisht-dard-se-bhar-na-aae-kyuun-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
- ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
- "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib


