غالب: عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
مطلع کا خیال یہ ہے کہ قطرے کی اصل خوشی دریا میں مل کر مٹ جانے میں ہے، اور درد جب حد سے بڑھ جائے تو خود دوا بن جاتا ہے [1]۔ یہ تصوف کا پرانا تصور ہے جسے غالب…

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2
پس منظر
مطلع کا خیال یہ ہے کہ قطرے کی اصل خوشی دریا میں مل کر مٹ جانے میں ہے، اور درد جب حد سے بڑھ جائے تو خود دوا بن جاتا ہے1۔ یہ تصوف کا پرانا تصور ہے جسے غالب نے روزمرہ تصویروں میں بیان کیا: حروف والا تالا، مہندی لگی انگلی، برسات کا بادل۔
غزل
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجدتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
دل ہوا کشمکش چارۂ زحمت میں تماممٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا
اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہاس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا
ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہواباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیالہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلناروتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا
گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوسکیوں ہے گرد رہ جولان صبا ہو جانا
تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقلدیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا
بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔچشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
مشکل الفاظ
- عشرت: خوشی، لطف
- فنا: مٹ جانا
- قفل ابجد: حروف والا تالا جو صحیح لفظ بنتے ہی کھل جاتا ہے
- کشمکش: کھینچا تانی، الجھن
- چارۂ زحمت: تکلیف کا علاج
- عقدے: گرہ، مشکل
- وا ہو جانا: کھل جانا
- ارباب وفا: وفادار لوگ
- ضعف: کمزوری
- مبدل: بدلا ہوا
- دم سرد: ٹھنڈی آہ
- انگشت حنائی: مہندی لگی انگلی
- ابر بہاری: بہار کا بادل
- نکہت گل: پھول کی خوشبو
- صبا: صبح کی ہلکی ہوا
- صیقل: چمکانا، زنگ صاف کرنا
ماخذ
- ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (10 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/ishrat-e-qatra-hai-dariyaa-men-fanaa-ho-jaanaa-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
- ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
- "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib







