غالب: رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
تین شعروں کی یہ مختصر غزل تنہائی کی خواہش کا اظہار ہے: ایسی جگہ جہاں نہ کوئی بات کرنے والا ہو، نہ ہمسایہ، نہ پہرے دار، نہ تیماردار اور نہ نوحہ کرنے والا [1]۔ سادہ الفاظ اور ردیف "کوئی نہ…

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2
پس منظر
تین شعروں کی یہ مختصر غزل تنہائی کی خواہش کا اظہار ہے: ایسی جگہ جہاں نہ کوئی بات کرنے والا ہو، نہ ہمسایہ، نہ پہرے دار، نہ تیماردار اور نہ نوحہ کرنے والا1۔ سادہ الفاظ اور ردیف "کوئی نہ ہو" کی تکرار نے اسے بہت مقبول بنایا اور یہ اکثر گائی جاتی ہے۔
غزل
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہوہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو
بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیےکوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمارداراور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
مشکل الفاظ
- ہم سخن: بات کرنے والا
- ہمزباں: ہم خیال، ایک زبان بولنے والا
- بے در و دیوار: بغیر دروازے اور دیواروں کے
- ہمسایہ: پڑوسی
- پاسباں: پہرے دار
- تیماردار: بیمار کی دیکھ بھال کرنے والا
- نوحہ خواں: ماتم کرنے والا
ماخذ
- ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (3 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/rahiye-ab-aisii-jagah-chal-kar-jahaan-koii-na-ho-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
- ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
- "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib


