خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولی

اسلام آباد: وفاقی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کسی معدنی وسائل پر قبضے کے لیے نہیں بلکہ صوبے میں امن و امان کی بحالی، سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا معدنیات سے متعلق بیانیہ حقیقت کے برعکس اور من گھڑت الزامات پر مبنی ہے۔
پیر کے روز مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور مشترکہ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت تفصیلی مباحثے کے بعد کثرت رائے سے یہ آئینی اقدام منظور کیا گیا۔ ان کے مطابق افسوس کا مقام ہے کہ تین دن کی خاموشی کے بعد اس قومی معاملے کو ایک سوچی سمجھی سازش اور بے بنیاد پروپیگنڈے کی نذر کرنے کی کوشش کی گئی۔
مائننگ لیزز کے اعداد و شمار
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر روگردانی کر چکی تھی اور اس کا واحد فوکس دھرنوں، لانگ مارچ اور تصادم پر تھا۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2010ء تک صوبے میں مائننگ کی 482 لیزز یا کنسیشنز تھیں جو 2020 تک بڑھ کر 1,762 ہوئیں، فروری 2024ء تک یہ تعداد 3,962 اور اکتوبر 2026ء تک 4,917 ہو چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 482 سے 4,917 تک کا یہ غیر معمولی اضافہ پی ٹی آئی کے گزشتہ 13 سالہ ادوار میں ہوا، اس لیے وفاق پر معدنیات پر قبضے یا امریکا سمیت کسی غیر ملکی قوت کو لائسنس دینے کا الزام قطعی طور پر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والے قوم کے سامنے کوئی ایک ثبوت یا دستاویز پیش کریں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن خود پارلیمنٹ کے فلور پر اعتراف کر چکے تھے کہ ان کے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں مغرب کے بعد ریاست کی رٹ نہیں رہتی اور تھانے غیر فعال ہو چکے ہیں۔ سکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں کی روزانہ کی بنیاد پر شہادتیں ہو رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ جب پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اس اہم مسئلے پر بحث ہو رہی تھی تو مولانا خود ایوان سے غیر حاضر رہے اور ان کے کسی رکن نے اس وقت ایسا کوئی الزام عائد نہیں کیا۔ وفاق نے آئینی تقاضوں کے تحت عوام کے تحفظ کے لیے یہ قدم اٹھایا اور 11 رکنی ایڈوائزری کونسل صوبے کے معاملات کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے۔
اختیار ولی خان کا مؤقف
اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سابق حکومت نے کئی اضلاع دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے تھے اور پولیس ہڑتال پر جانے پر مجبور ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن ایک قومی سطح کے سینئر رہنما ہیں، انہیں ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جس سے صوبے کے عوام اور شہدا کے لواحقین کی دل آزاری ہو۔
اختیار ولی خان نے واضح کیا کہ معدنی وسائل سے مالامال بونیر، سوات، مالاکنڈ، ہزارہ اور کوہاٹ کے اضلاع میں کوئی ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں بلکہ صرف اور صرف بدامنی کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں اپنے قریبی افراد، وزرا اور مشیروں میں من پسند بنیادوں پر لیزز تقسیم کی گئیں، اور سابق صوبائی حکومت نے صوبے کی معیشت، صنعت، صحت اور تعلیم کے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تعمیرنو اور ترقی کے لیے تمام سیاسی قیادت کو ذاتی اختلافات بھلا کر ریاستی اداروں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے، کیونکہ امن کی بحالی کے بغیر صوبے کی بحالی اور عوامی فلاح ممکن نہیں۔











