ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
میر تقی میرؔ کی غزل۔

میر تقی میرؔ کی غزل۔
غزل
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئےاس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
جن کی خاطر کی استخواں شکنیسو ہم ان کے نشان تیر ہوئے
نہیں آتے کسو کی آنکھوں میںہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے
آگے یہ بے ادائیاں کب تھیںان دنوں تم بہت شریر ہوئے
اپنے روتے ہی روتے صحرا کےگوشے گوشے میں آب گیر ہوئے
ایسی ہستی عدم میں داخل ہےنے جواں ہم نہ طفل شیر ہوئے
ایک دم تھی نمود بود اپنییا سفیدی کی یا اخیر ہوئے
یعنی مانند صبح دنیا میںہم جو پیدا ہوئے سو پیر ہوئے
مت مل اہل دول کے لڑکوں سےمیرؔ جی ان سے مل فقیر ہوئے
مشکل الفاظ
- اسیر: قیدی
- استخواں شکنی: ہڈیاں توڑ محنت
- نشانِ تیر: تیر کا نشانہ
- حقیر: کم تر، ذلیل
- بے ادائیاں: بے مروتی، بے رخی
- شریر: شوخ، نٹ کھٹ
- آب گیر: تالاب، پانی کا گڑھا
- عدم: نیستی، نہ ہونا
- طفلِ شیر: دودھ پیتا بچہ
- نمود: ظاہر ہونا
- پیر: بوڑھا
- اہلِ دول: دولت مند لوگ
پس منظر
مطلع، "ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئےاس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے"، کہتا ہے کہ اس کے حسن کے سامنے سب برابر ہیں۔ آٹھواں شعر انسان کی عمر کو صبح سے تشبیہ دیتا ہے: صبح پیدا ہوتے ہی سفید (یعنی بوڑھی) ہوتی ہے۔ میرؔ کا کلام چھ اردو دیوانوں پر مشتمل ہے2؛ یہ غزل ریختہ کے متن کے مطابق دی گئی ہے1۔
متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔
ماخذ
- ریختہ، میر تقی میرؔ: "ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/mir-taqi-mir-ghazals-190?lang=ur
- ریختہ، میر تقی میرؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/meer-taqi-meer/profile?lang=ur
- کلیاتِ میر، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/kulliyatimir
- ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur


