غالب: جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
مطلع کا خیال یہ ہے کہ جہاں محبوب کے قدموں کے نشان ہوں وہاں جنت کے باغ کی روشیں دکھائی دیتی ہیں [1]۔ غزل میں غالب کا فارسی آمیز، باریک اسلوب ہے، اور مقطع میں وہ فقیروں کا بھیس بدل…

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2
پس منظر
مطلع کا خیال یہ ہے کہ جہاں محبوب کے قدموں کے نشان ہوں وہاں جنت کے باغ کی روشیں دکھائی دیتی ہیں1۔ غزل میں غالب کا فارسی آمیز، باریک اسلوب ہے، اور مقطع میں وہ فقیروں کا بھیس بدل کر سخاوت کرنے والوں کا تماشا دیکھنے کی بات کرتا ہے۔
غزل
جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
دل آشفتگاں خال کنج دہن کےسویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
ترے سرو قامت سے اک قد آدمقیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
تماشا کہ اے محو آئینہ داریتجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
سراغ تف نالہ لے داغ دل سےکہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔتماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
مشکل الفاظ
- نقش قدم: قدموں کا نشان
- خیاباں: باغ کی روش
- ارم: جنت جیسا افسانوی باغ
- آشفتگاں: پریشان حال لوگ
- خال: تل
- کنج دہن: ہونٹ کا گوشہ
- سویدا: دل کا سیاہ نقطہ
- عدم: نیستی
- قد آدم: آدمی کے قد کے برابر
- محو آئینہ داری: آئینہ دیکھنے میں مگن
- تف نالہ: فریاد کی تپش
- شب رو: رات کو چلنے والا
- بھیس: روپ، لباس
- اہل کرم: سخی لوگ
ماخذ
- ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (ریختہ پر 8 اشعار؛ یہاں مروجہ دیوان کے 6 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/jahaan-teraa-naqsh-e-qadam-dekhte-hain-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
- ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
- "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib


