رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 16° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

غالب: جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں

مطلع کا خیال یہ ہے کہ جہاں محبوب کے قدموں کے نشان ہوں وہاں جنت کے باغ کی روشیں دکھائی دیتی ہیں [1]۔ غزل میں غالب کا فارسی آمیز، باریک اسلوب ہے، اور مقطع میں وہ فقیروں کا بھیس بدل…

غالب: جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
علامتی تصویر

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2

پس منظر

مطلع کا خیال یہ ہے کہ جہاں محبوب کے قدموں کے نشان ہوں وہاں جنت کے باغ کی روشیں دکھائی دیتی ہیں1۔ غزل میں غالب کا فارسی آمیز، باریک اسلوب ہے، اور مقطع میں وہ فقیروں کا بھیس بدل کر سخاوت کرنے والوں کا تماشا دیکھنے کی بات کرتا ہے۔

غزل

جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں

دل آشفتگاں خال کنج دہن کےسویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں

ترے سرو قامت سے اک قد آدمقیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

تماشا کہ اے محو آئینہ داریتجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں

سراغ تف نالہ لے داغ دل سےکہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔتماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں

مشکل الفاظ

  • نقش قدم: قدموں کا نشان
  • خیاباں: باغ کی روش
  • ارم: جنت جیسا افسانوی باغ
  • آشفتگاں: پریشان حال لوگ
  • خال: تل
  • کنج دہن: ہونٹ کا گوشہ
  • سویدا: دل کا سیاہ نقطہ
  • عدم: نیستی
  • قد آدم: آدمی کے قد کے برابر
  • محو آئینہ داری: آئینہ دیکھنے میں مگن
  • تف نالہ: فریاد کی تپش
  • شب رو: رات کو چلنے والا
  • بھیس: روپ، لباس
  • اہل کرم: سخی لوگ

ماخذ

  1. ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (ریختہ پر 8 اشعار؛ یہاں مروجہ دیوان کے 6 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/jahaan-teraa-naqsh-e-qadam-dekhte-hain-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
  2. ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
  3. "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib

کلام: تمام تحریریں ←