جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
میر تقی میرؔ کی غزل۔

میر تقی میرؔ کی غزل۔
غزل
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیںاس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھےجس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارےدیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں
گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت دل آنکھوں سےیا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں
کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہشاب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں
جاگہ سے بھی جاتے ہو منہ سے بھی خشن ہو کروے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں
سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہےبرسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں
ان آئینہ رویوں کے کیا میرؔ بھی عاشق ہیںجب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں
مشکل الفاظ
- تیرِ ستم: ظلم کا تیر
- پیکان: تیر کی نوک
- سہل: آسان، معمولی
- فلک: آسمان
- قماش: کپڑا، مال (یہاں: معیار)
- گودڑ: پرانے چیتھڑے
- دیوان: شاعر کے کلام کا مجموعہ
- لختِ دل: دل کا ٹکڑا
- خشن: سخت، کھردرا
- شایان: لائق، مناسب
- جوگی کی سی پھیری: جوگی جیسا آنا جانا
- آئینہ رو: آئینے جیسے چمکتے چہرے والے
پس منظر
تیسرا شعر، "مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں"، ریختہ پر میرؔ کے تعارفی صفحے پر نمایاں طور پر درج ہے۔ چوتھے شعر میں میرؔ دوسروں کے دیوانوں کو گودڑ (چیتھڑوں) سے بھرا کہتے ہیں؛ ریختہ کے تعارف کے مطابق میرؔ کو اپنی عظمت کا خود بھی احساس تھا2۔ متن ریختہ کے صفحے سے ہے1۔
متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔
ماخذ
- ریختہ، میر تقی میرؔ: "جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/jin-ke-liye-apne-to-yuun-jaan-nikalte-hain-mir-taqi-mir-ghazals?lang=ur
- ریختہ، میر تقی میرؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/meer-taqi-meer/profile?lang=ur
- کلیاتِ میر، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/kulliyatimir
- ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur


