ہمالہ
«بانگِ درا» اسی نظم سے شروع ہوتی ہے۔ انٹرنیشنل اقبال سوسائٹی کے مطابق یہ 1901ء میں لاہور کے ادبی رسالے «مخزن» میں چھپی تھی [2]۔ چھ چھ مصرعوں کے آٹھ بندوں میں نوجوان شاعر پہاڑ، بادل، ندی اور شام کے…

علامہ محمد اقبال · بانگِ درا، حصہ اول
پس منظر
«بانگِ درا» اسی نظم سے شروع ہوتی ہے۔ انٹرنیشنل اقبال سوسائٹی کے مطابق یہ 1901ء میں لاہور کے ادبی رسالے «مخزن» میں چھپی تھی2۔ چھ چھ مصرعوں کے آٹھ بندوں میں نوجوان شاعر پہاڑ، بادل، ندی اور شام کے منظر کو انسان کی ابتدائی سادہ زندگی کی یاد سے جوڑتا ہے1۔ «کشورِ ہندوستاں» سے مراد تقسیم سے پہلے کا پورا برصغیر ہے۔
کلام
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاںتو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
٭
امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندستاں ہے تو
مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے توسوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے تو
برف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سرخندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پر
٭
تیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہنوادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن
چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخنتو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن
چشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال ہےدامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہے
٭
ابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطےتازیانہ دے دیا برق سر کوہسار نے
اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی جسےدست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے
ہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابرفیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابر
٭
جنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنیجھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلی
یوں زباں برگ سے گویا ہے اس کی خامشیدست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھی
کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مراکنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مرا
٭
آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئیکوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی
آئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئیسنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئی
چھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کواے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
٭
لیلئ شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسادامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فداوہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کوہسار پرخوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
٭
اے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنامسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
کچھ بتا اس سیدھی سادھی زندگی کا ماجراداغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تودوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
مشکل الفاظ
- فصیل: شہر یا قلعے کی حفاظتی دیوار
- کشور: ملک، سرزمین
- دیرینہ روزی: پرانا ہونا، بڑھاپا
- کلیمِ طورِ سینا: حضرت موسیٰؑ، جنہیں کوہِ طور پر تجلی دکھائی دی
- تجلی: نور، جلوہ
- چشمِ بینا: دیکھنے والی، سمجھ رکھنے والی آنکھ
- مطلعِ اول: دیوان کا پہلا شعر
- دامن کش: دامن کھینچنے والا، اپنی طرف بلانے والا
- دستارِ فضیلت: عزت کی پگڑی
- کلاہِ مہرِ عالم تاب: دنیا کو روشن کرنے والے سورج کی ٹوپی
- ثریا: ستاروں کا ایک جھرمٹ (پروین)
- پہنائے فلک: آسمان کی وسعت
- آئینۂ سیال: بہتا ہوا آئینہ، یعنی صاف پانی
- رہوار: تیز رفتار گھوڑا
- تازیانہ: چابک، کوڑا
- فرطِ طرب: خوشی کی زیادتی
- فیلِ بے زنجیر: کھلا ہاتھی
- نسیمِ صبح: صبح کی ٹھنڈی ہوا
- گلچیں: پھول توڑنے والا
- کنجِ خلوت: تنہائی کا گوشہ
- کاشانہ: گھر
- فرازِ کوہ: پہاڑ کی چوٹی
- کوثر و تسنیم: جنت کی نہریں
- شاہدِ قدرت: قدرت کا حسن، محبوب
- عراق: ایک راگ کا نام؛ یہاں ندی کا میٹھا سُر
- لیلئ شب: رات، جسے لیلیٰ سے تشبیہ دی گئی
- زلفِ رسا: لمبی زلف
- تکلم: بات چیت
- غازہ: چہرے پر ملا جانے والا سرخ پاؤڈر
- مسکنِ آبائے انساں: انسان کے بزرگوں (ابتدائی انسانوں) کا گھر
- رنگِ تکلف: بناوٹ، دکھاوا
- گردشِ ایام: زمانے کا چکر
ماخذ
- Rekhta, «ہمالہ», Allama Iqbal: text, with print source Kulliyat-e-Iqbal (Educational Publishing House, Delhi, 2014), p. 21, and note "حصہ اول: 1905 تک (بانگِ درا)". https://www.rekhta.org/nazms/himaala-ai-himaala-ai-fasiil-e-kishvar-e-hindustaan-allama-iqbal-nazms?lang=ur
- International Iqbal Society, "Time Line": "1901: Poem 'Himala' published in Makhzan"; Bang-e-Dara published in March 1924. https://iqbal.com.pk/iqbal/time-line.html


