ترانۂ ملی
«چین و عرب ہمارا» کے نام سے مشہور یہ ترانہ «بانگِ درا» کے تیسرے حصے میں ہے، جس میں یورپ سے واپسی (1908ء) کے بعد کا کلام ہے [1][2]۔ اقبال نے اسے اپنی ابتدائی نظم «ترانۂ ہندی» ہی کی بحر…

علامہ محمد اقبال · بانگِ درا، حصہ سوم
پس منظر
«چین و عرب ہمارا» کے نام سے مشہور یہ ترانہ «بانگِ درا» کے تیسرے حصے میں ہے، جس میں یورپ سے واپسی (1908ء) کے بعد کا کلام ہے2۔ اقبال نے اسے اپنی ابتدائی نظم «ترانۂ ہندی» ہی کی بحر اور ردیف میں لکھا، مگر یہاں موضوع وطن کے بجائے پوری دنیا میں پھیلی ملتِ اسلامیہ ہے3۔ آخری شعر میں شاعر اپنے ترانے کو «بانگِ درا» یعنی قافلے کی گھنٹی کہتا ہے؛ 1924ء میں چھپنے والے پورے مجموعے کا نام بھی یہی ہے14۔
کلام
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارامسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارےآساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کاہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیںخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماریتھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہمسو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
اے گلستان اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کوتھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارا
اے موج دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہم کواب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارا
اے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہمہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا
سالار کارواں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا
اقبالؔ کا ترانہ بانگ درا ہے گویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
مشکل الفاظ
- ملی: ملت (قوم) سے متعلق
- توحید: اللہ کو ایک ماننا
- امانت: سونپی ہوئی چیز
- بت کدوں: بت خانوں، عبادت کے لیے بت رکھنے کی جگہوں
- پہلا وہ گھر خدا کا: خانۂ کعبہ
- پاسباں: نگہبان، محافظ
- تیغ: تلوار
- خنجرِ ہلال: نئے چاند کی شکل کا خنجر
- سیلِ رواں: بہتا ہوا سیلاب
- باطل: جھوٹ، ناحق
- گلستانِ اندلس: اندلس (ہسپانیہ) کا باغ
- موجِ دجلہ: دریائے دجلہ (عراق) کی لہر
- افسانہ خواں: کہانی سنانے والا
- حرمت: عزت، تقدس
- سالارِ کارواں: قافلے کا سردار
- میرِ حجاز: حجاز کے سردار، یعنی رسولِ اکرم ﷺ
- بانگِ درا: قافلے کی گھنٹی کی آواز
- جادہ پیما: راستہ طے کرنے والا
ماخذ
- Rekhta, «ترانۂ ملی», Allama Iqbal: text, with print source Kulliyat-e-Iqbal (Educational Publishing House, Delhi, 2014), p. 159, and note "حصہ سوم: 1908 سے (بانگِ درا)". https://www.rekhta.org/nazms/taraana-e-millii-chiin-o-arab-hamaaraa-hindostaan-hamaaraa-allama-iqbal-nazms?lang=ur
- International Iqbal Society, Kulliyat-e-Iqbal (Urdu), Bang-e-Dara Part 3, «ترانۂ ملی»: text used for comparison. https://iqbal.com.pk/poetical-works/7-poetical-works/kuliyat-e-iqbal-urdu/bang-e-dra/baang-e-dara-part3/210-tarana-e-milli.html
- "Tarana-e-Milli", Wikipedia (pointer only): written in the same metre and rhyme scheme as Tarana-e-Hindi. https://en.wikipedia.org/wiki/Tarana-e-Milli
- International Iqbal Society, "Time Line": Bang-e-Dara ("Call of the Caravan") published in Urdu in March 1924; Iqbal returned from Europe in 1908. https://iqbal.com.pk/iqbal/time-line.html







