جاوید کے نام
اقبال 1931ء کے آخر میں دوسری گول میز کانفرنس کے لیے لندن میں تھے [2]۔ ریختہ کے مطابق اسی دوران ان کے کم سن بیٹے جاوید اقبال نے لاہور سے انہیں پہلا خط لکھا اور گراموفون لانے کی فرمائش کی۔…

علامہ محمد اقبال · بالِ جبریل
پس منظر
اقبال 1931ء کے آخر میں دوسری گول میز کانفرنس کے لیے لندن میں تھے۔ ریختہ کے مطابق اسی دوران ان کے کم سن بیٹے جاوید اقبال نے لاہور سے انہیں پہلا خط لکھا اور گراموفون لانے کی فرمائش کی۔ اقبال گراموفون تو نہ لا سکے، مگر یہ نظم لکھ لائے جس میں بیٹے کو، اور اس کے ذریعے ہر نوجوان کو، خودی کا پیغام دیا گیا ہے۔ نظم «بالِ جبریل» (1935ء) میں شامل ہے12۔
کلام
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کرنیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کوسکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساںسفال ہند سے مینا و جام پیدا کر
میں شاخ تاک ہوں میری غزل ہے میرا ثمرمرے ثمر سے مے لالہ فام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہےخودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
مشکل الفاظ
- دیارِ عشق: عشق کی بستی
- مقام پیدا کر: اپنا درجہ اور مرتبہ بنا
- فطرت شناس: فطرت کو پہچاننے والا
- سکوتِ لالہ و گل: پھولوں کی خاموشی
- شیشہ گرانِ فرنگ: یورپ کے شیشہ بنانے والے، یعنی مغربی تہذیب
- سفالِ ہند: ہندوستان کی مٹی
- مینا و جام: صراحی اور پیالہ
- شاخِ تاک: انگور کی بیل
- ثمر: پھل
- مے لالہ فام: لالے کے رنگ کی (سرخ) شراب، یعنی جذبہ
- طریق: طریقہ، راستہ
- امیری: دولت مندی
- فقیری: درویشی، بے نیازی
ماخذ
- Rekhta, «جاوید کے نام», Allama Iqbal: text, with note that Iqbal wrote it after Javed Iqbal's letter from Lahore reached him in London during the Second Round Table Conference (بالِ جبریل). https://www.rekhta.org/nazms/jaaved-ke-naam-dayaar-e-ishq-men-apnaa-maqaam-paidaa-kar-allama-iqbal-nazms?lang=ur
- International Iqbal Society, "Time Line": "Participated in the Second Round Table Conference, London, September 7–December 31, 1931"; "1935: Published Bal-e-Jibril in Urdu". https://iqbal.com.pk/iqbal/time-line.html


