رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° جزوی بادل 22° / 11°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
حارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوششمالی کوریا کا بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی چوری میں ملوث ہونے کے ایف بی آئی الزام کو مستردنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےیورپ کے سپر مارکیٹس میں فریزرز ہیک، سویڈن سے بیلجیم تک خوراک ضائع کرنا پڑیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیبیرسٹر گوہر: سیاسی تنائو مزید نہ بڑھایا جائے، مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائےکوئٹہ کی عابدہ بتول عالمی ایٹم ویٹ ٹائٹل جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر بن گئیںایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات جاری، نئے علاقائی سکیورٹی انتظامات پر کوششبلاول بھٹو کی زیرِ صدارت پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعظم سے ملاقات پر غورسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےٹرمپ کا انتباہ: ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت لیں تو ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا

کوئٹہ: ڈیجیٹل سروس ڈیلیوری جدید طرز حکمرانی کا بنیادی تقاضا، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی

کوئٹہ: ڈیجیٹل سروس ڈیلیوری جدید طرز حکمرانی کا بنیادی تقاضا، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل سروس ڈلیوری جدید طرز حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے، جس کے ذریعے سرکاری خدمات کی فراہمی میں شفافیت، تیزی اور موثریت لانے کے ساتھ عوامی مشکلات میں کمی اور سرکاری اداروں پر شہریوں کا اعتماد مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان سول سروسز اکیڈمی میں ڈیجیٹل سروس ڈلیوری کے موضوع پر منعقدہ افتتاحی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

بلوچستان جیسے وسیع رقبے اور دور دراز آبادیوں پر مشتمل صوبے میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام کا فروغ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے سرکاری خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے، دفتری پیچیدگیوں میں کمی اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس محض ٹیکنالوجی کے استعمال کا نام نہیں بلکہ سرکاری نظام میں اصلاحات، شفافیت، جوابدہی اور عوامی ضروریات کے مطابق خدمات کی فراہمی کا ایک جامع طریقہ کار ہے۔

افسران کی استعداد کار

موجودہ دور ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس لیے سرکاری افسران کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید انتظامی مہارتوں، ڈیجیٹل گورننس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال سے متعلق اپنی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کریں تاکہ سرکاری امور کو زیادہ موثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان سرکاری امور کی ڈیجیٹلائزیشن اور عوامی خدمات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل سروسز کے فروغ سے عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان موجود فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مختلف محکموں کے روایتی طریقہ کار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوگا۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ڈیجیٹل سہولیات کی منصوبہ بندی اور فراہمی میں خواتین کی ضروریات کو خصوصی اہمیت دی جائے تاکہ انہیں صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور دیگر بنیادی سرکاری خدمات تک آسان رسائی حاصل ہو اور بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

صوبائی مشیر نے بلوچستان سول سروسز اکیڈمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ تربیت، انتظامی استعداد کار میں اضافے اور جدید طرز حکمرانی کے تقاضوں سے روشناس کرانے کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان سول سروسز اکیڈمی حفیظ جمالی کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ افسران کی تربیت، جدید انتظامی مہارتوں کے فروغ اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق تربیتی سرگرمیاں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اکیڈمی مستقبل میں بھی ڈیجیٹل گورننس، جدید ٹیکنالوجی اور موثر عوامی خدمت کے حوالے سے اپنی تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

تربیتی کورس

واضح رہے کہ بلوچستان سول سروسز اکیڈمی نے اکاونٹیبلٹی لیب پاکستان کے اشتراک سے صوبائی محکموں کے 30 سرکاری افسران کے لیے ڈیجیٹل گورننس کے موضوع پر تین روزہ تربیتی کورس کا آغاز کیا۔ تربیتی پروگرام کا مقصد سرکاری امور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل گورننس ٹولز اور ری ڈیزائن تھنکنگ کے موثر استعمال کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اور عوام کو بروقت و معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔

ورکشاپ میں شریک افسران کو جدید ڈیجیٹل طریقہ کار اور سرکاری امور میں ٹیکنالوجی کے عملی استعمال سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ، افسران کی مسلسل تربیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ہی عوامی خدمات کے نظام کو موثر بنایا جا سکتا ہے۔ حکومت بلوچستان اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل اقدامات کے فروغ اور سرکاری اداروں کی استعداد کار بہتر بنانے کے عزم پر قائم ہے۔

صوبائی مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل سروس ڈیلیوری کے حوالے سے افتتاحی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کر رہی ہیں۔
صوبائی مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل سروس ڈیلیوری کے حوالے سے افتتاحی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کر رہی ہیں۔
صوبائی مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان سول سروسز اکیڈمی ڈاکٹر حفیظ احمد جمالی و دیگر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل سروس ڈیلیوری کے حوالے سے افتتاحی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کر رہے ہیں۔
صوبائی مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان سول سروسز اکیڈمی ڈاکٹر حفیظ احمد جمالی و دیگر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل سروس ڈیلیوری کے حوالے سے افتتاحی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کر رہے ہیں۔
صوبائی مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کے ہمراہ منعقدہ افتتاحی ورکشاپ کے شرکاء کا گروپ فوٹو۔
صوبائی مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کے ہمراہ منعقدہ افتتاحی ورکشاپ کے شرکاء کا گروپ فوٹو۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

اشتہار