رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° جزوی بادل 23° / 11°فجر 05:28ظہر 12:16عصر 16:04مغرب 17:41عشا 19:03
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
لوئر چترال پولیس کی منشیات کے خلاف کمیونٹی مہم کے حوصلہ افزا نتائجاے این پی کا صوبائی اجلاس، امن و امان پر تشویش اور جلسے کی تیاریوں کا جائزہشانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروبار اور معمولات زندگی مفلوجبیکن ہاس کینال سائیڈ میں جونیئر بچوں کا سپورٹس گالا منعقدآر پی او ملاکنڈ زاہد نواز مروت کا شانگلہ کا دورہ، شجرکاری اور ترقیاتی کاموں کا معائنہپاکستان، سری لنکا پہلے ٹیسٹ کے ٹکٹ جمعہ سے فروخت ہوں گےمدینہ منورہ پر حوثی حملے کی علما کونسل کی شدید مذمتاکتوبر میں 5 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر، کل تعداد 3 لاکھ 21 ہزار سے تجاوزکشمیر چوک انڈر پاس 27 دن میں مکمل، وزیراعظم کی تقریب سے خطابقومی کرکٹرز کو افغانستان پریمئر لیگ کے لیے این او سی نہیںبھارتی سموگ پاکستان سمیت خطے کی فضا کو زہر آلود کرنے لگیآر پی او زاہد نواز مروت کا شانگلہ میں امن و امان پر زور

کوئٹہ: پولیو مہم کے چوتھے روز کی کارکردگی کا جائزہ

کوئٹہ: پولیو مہم کے چوتھے روز کی کارکردگی کا جائزہ
فائل فوٹو — تصویر: بشکریہ dailyindependent.com.pk

کوئٹہ (اعتماد نیوز) ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم کے چوتھے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ افسران نے شرکت کی، جنہوں نے مہم کی مجموعی پیش رفت، زیرو ڈوز بچوں، انکاری والدین اور رہ جانے والے بچوں کی کوریج سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

انسدادِ پولیو مہم کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پی سکے۔ زیرو ڈوز سے مراد وہ بچے ہیں جنہیں اب تک پولیو کے قطرے نہیں پلائے گئے، جبکہ انکاری والدین وہ ہیں جو اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں۔ ایسے بچوں اور گھرانوں تک رسائی مہم کی کامیابی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے، اسی لیے اجلاس میں ان کی کوریج کا خاص طور پر جائزہ لیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ کل مہم کے آخری روز تمام ٹیمیں پوری لگن، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ گھر گھر رسائی یقینی بناتے ہوئے تمام انکاری والدین کو کور کیا جائے اور کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔

انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے آخری روز 100 فیصد کوریج ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ ان کے مطابق تمام متعلقہ افسران فیلڈ میں موجود رہیں اور مانیٹرنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی علاقے یا بچے کی کوریج سے رہ جانے کا امکان باقی نہ رہے۔

اجلاس سے واضح ہوتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مہم کے آخری مرحلے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ زیرو ڈوز بچوں اور انکاری والدین سے متعلق رپورٹس کو بنیاد بنا کر آئندہ کے اقدامات طے کیے جا رہے ہیں تاکہ شہر میں کوئی بچہ اس حفاظتی قطرے سے محروم نہ رہے۔

اشتہار