رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° صاف 22° / 11°فجر 05:24ظہر 12:16عصر 16:09مغرب 17:46عشا 19:07
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
عالمی بینک: پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، عدم مساوات بھی بڑھیمعروف برطانوی اداکار سر پیٹرک اسٹیورٹ 86 برس کی عمر میں چل بسےراشد خان ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 200 وکٹیں لینے والے پہلے بولر بن گئےمیٹا نے نوعمر لڑکی کا مقدمہ نمٹا لیا، لاس اینجلس ٹرائل میں صرف اسنیپ رہ گئیانتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات میں موساد بھی شین بیٹ کی معاونامریکا کا سعودی عرب سے غیر ہنگامی سرکاری عملے اور اہل خانہ کو نکلنے کا حکمرونالڈو کی ہیٹ ٹرک، النصر نے الخلود کو 5-3 سے ہرا دیاپیٹرولیم لیوی میں فوری کمی مسترد، آئندہ بجٹ میں مرحلہ وار کمی پر غوررواں سال کے نو ماہ میں چار لاکھ 27 ہزار سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹرسہ ملکی ون ڈے سیریز کا فائنل: پاکستان کا سامنا سری لنکا سے، رینکنگ میں بہتری کا موقعانتخابی اصلاحات کمیٹی: پیپلز پارٹی کا اپوزیشن سے رابطہ، جواب مشاورت کے بعد دینے کا عندیہاوگرا کا اکتوبر کے لیے آر ایل این جی کی قیمتوں میں 15.3 فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن

سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے قیادت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے: بیرسٹر گوہر

سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے قیادت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے: بیرسٹر گوہر
فائل فوٹو: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان — تصویر: بشکریہ organiser.org

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی تناؤ بہت بڑھ چکا ہے۔ ایسے حالات میں تمام سیاسی قائدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور ماحول بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی تقریر میں بعض الفاظ استعمال نہ کرتے تو بہتر ہوتا۔ تاہم ان کی تقریر کے ردعمل میں جس طرح کی سخت زبان اور حملوں کا مظاہرہ کیا گیا، اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے متنازع امور سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم ریڈ لائن کراس کرنے والے نہیں، ریاست سب سے پہلے ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے علمبرداروں کو اپنی دوہری پالیسی ختم کرنا ہوگی۔ جب سیاسی معاملات میں دوہرے معیار کا خاتمہ ہوگا تو حالات بہتر ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔

انتخابی اصلاحات

انتخابی اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر اصلاحاتی کمیٹی میں اپوزیشن کے صرف پانچ اور حکومت کے دس ارکان شامل ہوں گے تو ایسی کمیٹی میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے تمام فریقوں کو برابر کی نمائندگی دی جانی چاہیے تاکہ اصلاحات غیر جانبدار اور قابلِ قبول ہوں۔ انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ اگر وہ واقعی غیر جانبدار انتخابی اصلاحات چاہتی ہے تو 2017ء کے طرز پر ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی عمل میں برابری کی بنیاد پر نمائندگی شامل کرنے سے مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے ایجنڈے پر بھی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کی اپنی سیاست اور اپنا مؤقف ہے، ہم کسی کی بات پر عمل نہیں کرتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی انتشار اور چیلنجز کا پوری قوم مل کر مقابلہ کرتی ہے، اس لیے ملک کے اندر سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے قومی یکجہتی کو اہمیت دینی چاہیے۔

موضوعات: