سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے قیادت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے: بیرسٹر گوہر

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی تناؤ بہت بڑھ چکا ہے۔ ایسے حالات میں تمام سیاسی قائدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور ماحول بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی تقریر میں بعض الفاظ استعمال نہ کرتے تو بہتر ہوتا۔ تاہم ان کی تقریر کے ردعمل میں جس طرح کی سخت زبان اور حملوں کا مظاہرہ کیا گیا، اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے متنازع امور سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم ریڈ لائن کراس کرنے والے نہیں، ریاست سب سے پہلے ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے علمبرداروں کو اپنی دوہری پالیسی ختم کرنا ہوگی۔ جب سیاسی معاملات میں دوہرے معیار کا خاتمہ ہوگا تو حالات بہتر ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔
انتخابی اصلاحات
انتخابی اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر اصلاحاتی کمیٹی میں اپوزیشن کے صرف پانچ اور حکومت کے دس ارکان شامل ہوں گے تو ایسی کمیٹی میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے تمام فریقوں کو برابر کی نمائندگی دی جانی چاہیے تاکہ اصلاحات غیر جانبدار اور قابلِ قبول ہوں۔ انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ اگر وہ واقعی غیر جانبدار انتخابی اصلاحات چاہتی ہے تو 2017ء کے طرز پر ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی عمل میں برابری کی بنیاد پر نمائندگی شامل کرنے سے مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے ایجنڈے پر بھی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کی اپنی سیاست اور اپنا مؤقف ہے، ہم کسی کی بات پر عمل نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی انتشار اور چیلنجز کا پوری قوم مل کر مقابلہ کرتی ہے، اس لیے ملک کے اندر سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے قومی یکجہتی کو اہمیت دینی چاہیے۔











