وزیراعظم: مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹائزیشن قومی ترقی کی کنجی، علی بابا کے ساتھ منصوبوں کا جائزہ

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا کہ قومی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹائزیشن میں مضمر ہے۔ وہ معیشت اور گورننس میں اے آئی و ڈیجیٹائزیشن اور علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق انہوں نے زراعت، تجارت، صحت اور گورننس سمیت اہم شعبوں میں ان ٹیکنالوجیز کو تیزی سے اپنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مؤثر استعمال سے تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار، کاروباری سہولت اور سرکاری خدمات کا معیار بہتر ہوتا ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ دورۂ چین کے دوران ہانگژو میں علی بابا کے ہیڈکوارٹر میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔ ان کے مطابق علی بابا کے ساتھ شراکت سے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دلانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے میں آٹومیشن اور پاکستانی زرعی اجناس کی چینی منڈیوں میں برآمد کے لیے علی بابا کے تعاون کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے واضح اہداف، مدت اور مؤثر نگرانی کے نظام کے ساتھ مکمل کیے جائیں۔ متعلقہ وزارتوں کو نومبر تک تمام ضروری اقدامات مکمل کر کے پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ زراعت میں اے آئی پر مبنی ماڈلز، تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور مالٹے و زیتون کی برآمد کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام جاری ہے۔ علی بابا کی ویب سائٹ پر پاکستانی مصنوعات کی برآمد کے لیے خصوصی پاکستان پویلین بھی قائم کیا جا چکا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام فعال ہو چکا ہے۔ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور علی بابا کے اشتراک سے دو سالہ پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے، جس میں چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی، تربیت اور ای کامرس کے مواقع ملیں گے۔
اجلاس میں ایف بی آر اور پرال کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم اور سینٹرل ڈیٹا حب کی تیاری اور صحت کے شعبے میں اے آئی کی مدد سے کینسر کی تشخیص کے مجوزہ پائلٹ منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔











