ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی ری ٹینڈرنگ ہوگی، منصوبہ فائیو سٹار ہوٹل میں بدلا جائے گا

اسلام آباد: حکومت نے دارالحکومت کے متنازع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے کی ری ٹینڈرنگ اور ری ڈیزائننگ کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے کے کاروباری ماڈل میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے ابتدائی معاہدے اور اس سے وابستہ سرکاری حکام کا تعین کیا ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ میں ان افراد کے تحفظ کی سفارش بھی ہے جنھوں نے جائز آمدن سے فلیٹس خریدے یا سرمایہ کاری کی۔ وفاقی کابینہ نے رپورٹ کی توثیق کی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق نیب کی تحقیقات آئندہ تین ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد عدالتی کارروائی شروع ہوگی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے عمارت کا قبضہ حاصل کر لیا ہے اور اسے اصل تصور کے مطابق فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا۔
بی بی سی اردو کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عبدالحفیظ شیخ اور سی ڈی اے کے اس وقت کے کچھ افسران بے قاعدگیوں میں شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق 1997 میں ریڈ زون میں فائیو سٹار ہوٹل کی منظوری دی گئی تھی اور 2004 میں پرویز مشرف کے دور میں سی ڈی اے کے چیئرمین کامران لاشاری نے اس پر عمل شروع کروایا۔ بعد میں ساڑھے تیرہ ایکڑ زمین پر ہوٹل کی جگہ اپارٹمنٹس بنانے کا عمل شروع ہوا۔
رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے نے دو ٹاورز میں 120 اپارٹمنٹس کی منظوری دی تھی، مگر سرکاری دستاویزات میں ردوبدل کے بعد 254 اپارٹمنٹس بنائے گئے اور مالکان سے مجموعی طور پر ساڑھے نو ارب روپے وصول کیے گئے۔ معاہدے میں لکھا تھا کہ زمین کی مکمل ادائیگی تک ملکیت سی ڈی اے کی رہے گی۔
سپریم کورٹ نے 2019 میں کمپنی کو 17 ارب روپے سی ڈی اے کو ادا کرنے کا حکم دیا۔ ادائیگی نہ ہونے پر سی ڈی اے نے 2023 میں لیز منسوخ کی، جسے 2026 میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔











