رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 10° صاف 22° / 9°فجر 05:21ظہر 12:16عصر 16:13مغرب 17:50عشا 19:11
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ایران کا امریکا کو دوبارہ فوجی کارروائی سے خبردار، عباس عراقچی کا بیانایران پر حملہ کل ہو سکتا ہے، ایران کے معاملے کو اچھے طریقے سے نمٹایا: ٹرمپامریکا کا سعودی عرب سے سفارتی عملہ واپس بلانے کا فیصلہ، عراق سفر سے گریز کی ہدایت میں توسیعایران: امریکا کے ساتھ جنگ بندی میں تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونا ضروری، عراقچیعراق میں ایرانی کرد گروپ کے ٹھکانے پر ڈرون حملہ، امریکا کا شہریوں کو سفر سے گریز کا انتباہاو آئی سی سیکرٹری جنرل کی مکہ، مدینہ اور سعودی شہروں پر حوثی حملوں کی مذمتوزیراعظم شہباز شریف کا دو سال میں 5 لاکھ طلبہ کو کروم بکس فراہم کرنے کا اعلانقومی اسمبلی کا رواں اجلاس 30 اکتوبر تک بڑھا دیا گیا، اہم بلز منظور ہوں گےقلعہ سیف اللہ میں کارروائی، اہم دہشت گرد کمانڈر ہلاک: ضیا اللہ لانگوگورنر کی نوشہرہ میں پرویز خٹک سے ملاقات، وفاق کے ساتھ مسائل کے حل پر باتاسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی نئی کوشش ہونی چاہیے: ایرانی صدر پزشکیانشاہد رند: گوادر میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو سراہا

تربت: ڈپٹی کمشنر کیچ کی صدارت میں تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ

تربت: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ضلع کیچ کے تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی، اساتذہ اور دیگر ملازمین کی حاضری، تعلیمی نظم و ضبط، اسکولوں کی مانیٹرنگ اور محکمہ تعلیم کی جانب سے انتظامی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن کیچ اصغر علی، آر ٹی ایس ایم کے عبدالحلیم بلوچ، تمام تحصیلوں کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (ڈی ڈی اوز) سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

حاضری اور تادیبی کارروائیاں

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد نے ڈپٹی کمشنر کو ضلع میں تعلیمی امور، اسکولوں کی نگرانی، ملازمین کی حاضری اور محکمانہ کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ رواں ماہ فرائض کی انجام دہی اور متعلقہ انتظامی معاملات کے سلسلے میں 67 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ 16 ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2026 کے دوران تقریباً 22 ملازمین کے خلاف ملازمت سے برطرفی کی کارروائی کی گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں میں حاضری کے نظام کو موثر بنانے، سرکاری وسائل کے درست استعمال، تدریسی عمل میں بہتری اور تعلیمی سرگرمیوں کو باقاعدگی سے جاری رکھنے کے لیے مانیٹرنگ اور انتظامی اقدامات اہمیت کے حامل ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اسکولوں کی باقاعدہ نگرانی کریں اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے موثر کردار ادا کریں۔

مانیٹرنگ اور ہدایات

آر ٹی ایس ایم کے عبدالحلیم بلوچ نے ادارے کی جانب سے اسکولوں کے دوروں، مانیٹرنگ کے طریقہ کار اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے متعلق مشاہدات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے اسکولوں میں حاضری، تدریسی سرگرمیوں اور زمینی سطح پر درپیش مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا تاکہ متعلقہ امور کا جائزہ لے کر بہتری کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔

ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے تعلیمی شعبے کی بہتری، سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل کی باقاعدگی اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلع میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ افسران، تحصیل سطح کے ذمہ داران اور اسکول انتظامیہ کے درمیان موثر رابطہ اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر ملازمین کی حاضری یقینی بنانے، تدریسی عمل میں رکاوٹوں کو دور کرنے، اسکولوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ اور محکمانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے تاکہ جہاں بھی انتظامی یا تدریسی خامیاں سامنے آئیں، وہاں بروقت اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔

ڈپٹی کمشنر نے تعلیمی شعبے سے وابستہ افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانت داری، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مقدم رکھتے ہوئے ضلع بھر میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع کیچ میں تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، حاضری کے نظام کو موثر کرنے، تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل اور محکمانہ نظم و ضبط کے لیے متعلقہ حکام کی نگرانی میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔