تربت: صحت کے اجلاس میں 30 ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی، میڈیکل اسٹورز کی نگرانی کا جائزہ
تربت: ضلع کیچ میں صحت عامہ کی سہولیات کی بہتری، سرکاری طبی اداروں کی کارکردگی، ملازمین کی حاضری و انتظامی امور، تنخواہوں کی کٹوتی اور میڈیکل اسٹورز کی نگرانی سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راشدہ ملک، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر صدام بلوچ، ڈرگ انسپکٹر مکران محمد اکرم، پی پی ایچ آئی کے عبدالخالق، ڈسٹرکٹ ڈرگ انسپکٹر تربت وارث رفیق، ڈی ایچ او آفس کے ڈاکٹر لطیف بلوچ سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔
ملازمین کی حاضری اور تنخواہوں میں کٹوتی
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ نے محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی، انتظامی معاملات اور ملازمین کی حاضری سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غیر حاضری اور متعلقہ انتظامی معاملات کے تناظر میں 30 ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے۔
انہوں نے محکمہ صحت میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور سرکاری امور کی موثر انجام دہی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا۔
ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راشدہ ملک نے سول ہسپتال تربت کی کارکردگی، طبی سہولیات کی فراہمی اور ہسپتال کے انتظامی امور کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ اس دوران ہسپتال میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے اور انتظامی معاملات کو موثر انداز میں چلانے سے متعلق امور زیر غور آئے۔
میڈیکل اسٹورز کی انسپکشن
ڈرگ انسپکٹر مکران محمد اکرم بلوچ نے میڈیکل اسٹورز کی انسپکشن کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ ڈرگ انسپکٹر تربت وارث رفیق کے ہمراہ تربت شہر کے مختلف میڈیکل اسٹورز کا دورہ کیا۔
معائنے کے دوران دو سے تین میڈیکل اسٹورز میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات پائے گئے، جس پر متعلقہ اسٹور مالکان کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ محکمہ صحت سے متعلقہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں، سرکاری طبی مراکز میں نظم و ضبط اور صفائی ستھرائی کو یقینی بنایا جائے اور میڈیکل اسٹورز کی باقاعدہ نگرانی کے ذریعے عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی اور صحت کے شعبے میں مقررہ ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ محکمہ صحت کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، انتظامی خامیوں کی نشاندہی اور ان کے ازالے، ملازمین کی حاضری یقینی بنانے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔











