انگور اڈہ فائرنگ کے جواب میں افغان طالبان کی چوکیوں پر کارروائی، سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان: سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے جمعہ کو جنوبی وزیرستان اور پاڑہ چنار سے ملحقہ علاقوں میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں اور فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انگور اڈہ میں افغان طالبان اہلکاروں کی مبینہ بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔ ان کے مطابق کارروائی کے بعد افغان اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے اور ان کے کئی اہلکار ہلاک بھی ہوئے۔ ریڈیو پاکستان نے بھی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہی دعویٰ نشر کیا ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی ردعمل نہیں آیا۔
اس سے قبل بدھ کو سکیورٹی فورسز نے انگور اڈہ میں عام شہریوں پر حملے کے بعد افغان طالبان کی کئی چیک پوسٹیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق افغان فورسز نے انگور اڈہ بازار اور قریبی رہائشی علاقوں پر فائرنگ کی۔ ایک مارٹر گولہ لگنے سے ایک شہری جاں بحق ہوا، جبکہ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں طالبان کے سات مورچے تباہ ہوئے۔
دوسری جانب افغان وزارتِ دفاع نے الزام لگایا کہ پاکستانی فوج نے صوبہ پکتیکا میں بازار اور کمشنر آفس پر ڈرون حملے کیے۔ وزارت کے مطابق جواب میں افغان فورسز نے قریبی پاکستانی اڈے اور چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس میں متعدد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔ افغان طالبان نے اپنے جانی نقصان کی تردید کی ہے۔ بی بی سی کے مطابق وہ دونوں جانب کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
مقامی افراد کے مطابق سرحد کے قریب آبادی کے کچھ شہریوں کو فائرنگ کے دوران عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔











