ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت ہیلتھ کمیٹی اجلاس، اسپتالوں میں غیر حاضری برداشت نہ کرنے کا حکم

تربت: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کیچ میں صحت کے شعبے کی مجموعی صورتحال، سرکاری اسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، عملے کی حاضری اور آنے والی پولیو مہم سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملک ریحان دشتی، آر ایم او سول ہسپتال تربت ڈاکٹر مہرین باقر، ڈبلیو ایچ او کے ڈی پی او ڈاکٹر ارسلان، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرتضیٰ بلوچ، بابو شاہجان اور فدا احمد سمیت دیگر متعلقہ افسران و نمائندگان موجود تھے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالروف بلوچ نے ضلع میں محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی، جاری سرگرمیوں اور طبی سہولیات پر بریفنگ دی۔ آر ایم او ڈاکٹر مہرین باقر نے سول ہسپتال تربت میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی حاضری و غیر حاضری، ادویات کی دستیابی، بجلی و پانی کے مسائل اور دائمی امراض کے مریضوں سمیت دیگر امور پر آگاہ کیا۔
ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرتضیٰ بلوچ نے بتایا کہ پی پی ایچ آئی کے پاس تقریباً ڈھائی کروڑ روپے مالیت کی ادویات موجود ہیں جو مختلف بنیادی مراکزِ صحت (BHU) کو فراہم کی جا رہی ہیں، اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈی پی او ڈاکٹر ارسلان نے آئندہ پولیو مہم، بچوں کو قطرے پلانے، ٹیموں کی نگرانی اور مہم کو مؤثر بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی۔
غفلت اور لاپرواہی کی گنجائش نہیں
ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری اسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے اور غیر حاضری کسی صورت برداشت نہ کی جائے، جبکہ ادویات کی دستیابی، بجلی و پانی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مریضوں کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں غفلت اور لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں، تمام افسران اور ملازمین اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور فرض شناسی سے ادا کریں۔ ڈپٹی کمشنر نے آنے والی پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور ٹیموں کی مکمل نگرانی پر بھی زور دیا۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











