وزیراعظم کا پشاور میں اپیکس کمیٹی سے خطاب، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی “انتہائی مجبوری” میں نافذ کرنے کا دعویٰ

پشاور: وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ "انتہائی مجبوری" کے تحت کیا گیا۔ وہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پشاور میں ہونے والے وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ 11 اکتوبر کو دونوں اقدامات کے نفاذ کے بعد صوبے کا ان کا پہلا دورہ ہے۔
اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، گورنر فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزراء اور صوبے کے نئے مشیر شریک ہوئے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیراعظم نے بتایا کہ مسئلے کے حل کے لیے سیاسی کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے اراکین نے 48 گھنٹے کام کیا، جبکہ فیصلے سے قبل انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے دو بار مشاورت کی۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون حکومت کو یہ اقدامات کرنے کا اختیار دیتے ہیں، اور صدر زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سمیت اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا۔
شہباز شریف کے مطابق 2017 اور 2018 تک سکیورٹی اداروں اور شہریوں کی قربانیوں سے امن بحال ہو چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار افراد شہید ہوئے اور ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی حکومت نے دہشت گردوں کو واپس آنے دیا۔
وزیراعظم نے سابق صوبائی حکومت پر تعلیم، صحت اور امن و امان کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔ ان کے بقول پولیس کی 5 ہزار آسامیاں خالی رہیں، سیف سٹی منصوبہ نامکمل ہے اور سی ٹی ڈی کی تربیت و جدید اسلحے پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے 800 ارب روپے سے زائد ملے۔ دی نیوز کے مطابق انہوں نے پینے کے صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے کے غبن اور کوہستان سکینڈل میں 37 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات بھی لگائے۔
وزیراعظم نے مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل مشاورتی کونسل کے قیام کا اعلان کیا اور وعدہ کیا کہ فیلڈ مارشل کے تعاون سے صوبے میں خوشحالی لائی جائے گی۔ قبائلی اضلاع کے نمائندوں کی ترقیاتی کونسل سے خطاب میں انہوں نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا، اور کہا کہ گورنر اور چیف سیکرٹری کو صوبے کو درکار گندم فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔











