ٹرمپ: مذاکرات آگے بڑھے تو ایران پر نئے حملے کا امکان بہت کم

واشنگٹن/قاہرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات آگے بڑھتے رہے تو ایران پر نئے حملوں کا حکم دینے کا امکان بہت کم ہے۔ دوسری جانب دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز اور اس کے قریب بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی۔
سی این این کو فون پر انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ ایران بہت مضبوط معاہدے پر دستخط کرتا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق نئے حملوں کی ضرورت پڑنے کا امکان بہت کم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حملے دوبارہ شروع ہوئے تو امریکا نے بنیادی ڈھانچے کے ممکنہ اہداف طے کر رکھے ہیں، جن میں 38 پل شامل ہیں جنہیں ایک گھنٹے میں گرایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد بڑے حملے دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ دیا تھا، مگر کسی بڑی امریکی فوجی کارروائی کے آثار نہیں ملے۔ ایران کہہ چکا ہے کہ وہ جواب میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنائے گا۔
امریکی فوج کے مطابق ہفتے کی شام اس کی فضائیہ نے خلیج عمان میں ایک تجارتی جہاز کے پچھلے حصے پر فائر کر کے اسے ناکارہ بنایا، جو امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے کہا کہ ہرمز میں “غیر مجاز راستے” سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ پکڑ گئے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایک تیسرے ٹینکر میں بھی دھماکا ہوا اور آگ لگی۔ رائٹرز ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے کہا کہ جنوبی ایران میں ہفتے کی شام کے دھماکے ممکنہ طور پر ایرانی فوجی سرگرمیوں سے متعلق تھے اور ایرانی سرزمین پر میزائل حملوں کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ثالثی کرنے والے قطر نے ہفتے کو ان خبروں کی تردید کی کہ امریکا اور ایران معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ قطری وزیراعظم کے مطابق دونوں فریق معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے جمعرات کو بتایا کہ ایران نے قطر کے ذریعے جوہری تجویز واشنگٹن کو بھیجی ہے، تاہم بات چیت کا انحصار سات مطالبات پورے ہونے پر ہے، جن میں پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں تک رسائی اور جنگی تلافی شامل ہیں۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں جوہری معاملہ شامل ہو۔











