اقتصادی رابطہ کمیٹی کی دفاعی منصوبوں، آبی شعبے کے لیے 275 ارب روپے سمیت گرانٹس کی منظوری

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بدھ کو وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں اجلاس کیا اور مختلف وزارتوں کی 11 تجاویز پر غور کرتے ہوئے کئی اہم منظوریاں دیں۔
کمیٹی نے ڈیفنس ڈویژن کی تین سمریوں پر ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس منظور کیں۔ ان میں جاری دفاعی خدمات کے منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے، لینیج ایل 1000 طیارے کی شمولیت کے لیے 1.094 ارب روپے اور منصوبہ استقلال کے لیے 29.139 ارب روپے شامل ہیں۔
وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی سمری پر فرنٹیئر کور بلوچستان (شمالی) کے ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کے لیے 3.71 ملین روپے کی گرانٹ دی گئی۔
وزارتِ آبی وسائل کے اہم منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی۔ مالی سال 2026-27 میں گیس پیداواری شعبوں کے پانچ کلومیٹر دائرے میں آنے والے دیہات کو گیس کی فراہمی کے لیے ایک ارب روپے بھی منظور ہوئے۔
کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے اقدامات سے حاصل ہونے والے 15.625 ارب روپے وزیراعظم ایوانِ کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔
کمیٹی نے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے درجات اور بینک ریٹ میں نظرثانی بھی منظور کی، جس کا مقصد نوجوانوں کو سستے قرضوں تک رسائی دینا اور روزگار کو فروغ دینا ہے۔
وزارتِ تجارت کی سمری پر کیمرہ نصب اسمارٹ گلاسز کی درآمد پر پابندی منظور کی گئی۔ کمیٹی نے صوبوں اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کو ان کے استعمال سے متعلق کام کی جگہ کے لیے مناسب ضوابط بنانے کی سفارش کی۔
ای سی سی نے سوئی ناردرن کے نظام سے منسلک یوریا کھاد کے دونوں کارخانوں، فاطمہ فرٹ اور ایگری ٹیک، کو 31 دسمبر 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی منظوری دی، جو توانائی کی دستیابی سے مشروط ہے۔ اس کے علاوہ 89 پیٹرولیم حقوق کی توسیع اور تجدید کے لیے ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن رولز میں شرائط کی تکمیل سے مشروط نرمی دی گئی۔
اجلاس میں وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین، وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام شریک ہوئے۔











