نصیرآباد: یونین کونسل بارک سے لانڈھی شریف تک 35 کلومیٹر بلیک ٹاپ سڑک بنے گی
نصیرآباد: پارلیمانی سیکرٹری برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و رکن صوبائی اسمبلی حاجی میر محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ ایک ارب روپے کی خطیر لاگت سے میگا ترقیاتی منصوبے کے تحت 35 کلومیٹر طویل منجھو شوری بیرون یونین کونسل بارک سے تحصیل لانڈھی شریف کے مختلف علاقوں تک بلیک ٹاپ سڑک تعمیر کی جائے گی۔ اس سے علاقے کے ہزاروں عوام مستفید ہوں گے۔
اس اہم شاہراہ کی تعمیر سے نہ صرف دیہی آبادی کا شہروں سے رابطہ بہتر ہوگا بلکہ کسانوں کو اپنی زرعی اجناس منڈیوں تک پہنچانے میں آسانی ہوگی۔ طلبہ کو تعلیمی اداروں اور مریضوں کو ہسپتالوں تک رسائی میں بھی نمایاں سہولت میسر آئے گی، جبکہ علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملنے کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
عوامی فلاح اور بنیادی سہولیات
یہ خیالات انہوں نے حلقہ انتخاب کے دورے کے موقع پر مختلف عوامی وفود سے ملاقاتوں کے دوران ظاہر کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔ ہماری اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا اور علاقے کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
حاجی میر محمد خان لہڑی نے کہا کہ تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی عوام کا بنیادی حق ہے اور ہم اپنی سیاسی سوچ اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت بلاامتیاز ہر طبقے کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ کیونکہ عوام نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اسے عملی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ذریعے پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کا معیار زندگی بلند کرنے، پسماندہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے اور اجتماعی خوشحالی کے لیے حکومت عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ترقی کے ثمرات صرف چند علاقوں تک محدود نہ رہیں بلکہ حلقے کے ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر شہری تک پہنچیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی خدمت کا سفر جاری رہے گا اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرتے ہوئے ان کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں حاصل ہو سکیں۔











