برطانیہ کا اسرائیل کے ای ون آبادکاری منصوبے میں شامل افراد اور کمپنیوں پر پابندیوں کا انتباہ

لندن: برطانوی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے متنازع ای ون آبادکاری منصوبے کے تحت تعمیراتی کاموں کے لیے بولی دینے والے افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں سمیت قانونی نتائج اور ساکھ کو نقصان پہنچنے سے خبردار کیا ہے۔
امریکی ٹی وی کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ای ون آبادکاری منصوبے کے لیے ٹینڈرز جاری کرنے کا فیصلہ دو ریاستی حل کے امکانات کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، جس کی عالمی برادری بڑے پیمانے پر مذمت کر چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے لیے بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ پیر کو تھی۔
برطانوی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ برطانیہ نے غیر قانونی آبادکاریوں کی تعمیر میں ملوث افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے نئے اختیارات متعارف کرائے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروباری اداروں اور افراد کو ای ون منصوبے کے تعمیراتی ٹینڈرز میں حصہ لینے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ انہیں قانونی کارروائی اور ساکھ کو نقصان پہنچنے کے علاوہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانوی حکومت فلسطینیوں کی مسلسل بے دخلی اور غیر قانونی قبضے کو قبول نہیں کرے گی۔











