زیارت میں مبینہ ڈرون حملے کے خلاف احتجاج، پشتونخوامیپ اور پی ٹی ایم کا مظاہرہ

زیارت: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے زیارت میں مبینہ ڈرون حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ حملے میں محمد مہربان شہید جبکہ منظور احمد اور فیروز خان شدید زخمی ہوئے۔
مظاہرہ زیارت بازار میں منعقد ہوا، جو بازار میں گشت کے بعد احتجاجی جلسے میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین نے دہشت گردی نامنظور، بدامنی نامنظور اور ہم اپنی زمین پر امن چاہتے ہیں کے نعرے لگائے۔
مظاہرین نے ڈرون حملے کے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے اور شہدا و زخمیوں کو معاوضہ اور علاج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
رہنماؤں کا خطاب
جلسے سے پشتونخوامیپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال اور جمیل خان نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالداروں اور چرواہوں پر حملہ دراصل قدرتی خزانوں سے بھرے علاقے کو پشتونوں سے خالی کرانے کی سازش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کے مفادات کے خلاف مائنز منرل ایکٹ دراصل قبضہ گیری کی سازش تھا اور 8 فروری 2024 کے الیکشن کی نشستوں کی نیلامی اور مسلط ٹولے سے پشتونخوا وطن کے قدرتی معدنی خزانوں پر قبضہ گیری تھی۔
مقررین کے مطابق آج مائنز منرل اور اس کی بعض اقسام کو نکالنے کی دنیا بھر میں سخت مخالفت پائی جاتی ہے اور خود امریکہ کے عوام نے بھی ایسے ریئر منرل نکالنے کی اجازت نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے وطن اور اس کے قدرتی خزانوں کے مالک ہیں۔ مسلط کرپٹ ٹولے سے سمجھوتوں اور سازشوں کے ذریعے ہمارے مائنز اور منرل نکالنے کی کوشش درست راستہ نہیں۔ وطن کے مالکوں اور نمائندوں سے پوچھے بغیر بنائی گئی پالیسیوں کے اثرات منفی ہوں گے۔
رہنماؤں نے کہا کہ قبضہ گیری کے لیے لاشیں پھینکنا ملک، وطن اور ان کے باسیوں سے غداری کے مترادف ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بدامنی، دہشت گردی اور سرکار کی جانب سے قتل و قتال کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور دہشت گردی و بدامنی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔











