رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 9° صاف 22° / 9°فجر 05:20ظہر 12:16عصر 16:15مغرب 17:52عشا 19:12
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
کوہ سلیمان ڈویژن کی تمام ڈویژنل آسامیوں کی منظوری، سرفراز بگٹی کا اعلانلاہور: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ اور روشن پیکیجز کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخطبیوٹمز یونیورسٹی سالانہ اسپورٹس فیسٹیول کا گورنر جعفر خان مندوخیل نے افتتاح کیاپی ایس ایکس میں مندی، کے ایس ای-100 انڈیکس 1,550 پوائنٹس گر کر 162,375 پر بندمعاشی استحکام کے بعد گہری ادارہ جاتی اصلاحات کا مرحلہ شروع، وزیراعظم کی A&M وفد سے گفتگوصدر زرداری کی جرمن صدر شٹائن مائر سے برلن میں ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاقصدر زرداری کے اعزاز میں برلن میں استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیشفیلڈ مارشل عاصم منیر کا پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، دہشت گردوں کے خلاف مہم جاری رکھنے کا اعلانعدالتیں مستقبل کے ممکنہ قوانین روکنے کے لیے پیشگی فیصلہ نہیں کر سکتیں: اسلام آباد ہائیکورٹپیٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا جمعہ کو اسلام آباد میں اجلاسبلوچستان اسمبلی: سردار نظام کے خاتمے اور نواب، سردار کے الفاظ پر پابندی کی قرارداد آج پیش ہوگیشیبہ آئل فیلڈ پر ڈرون حملے کی کوشش، ملبہ گرنے سے فلپائنی اور نیپالی کارکن ہلاک، پاکستانی اور انڈین زخمی

ایران بارڈر کی بندش عوام کا معاشی قتل ہے، مولانا عبدالواسع اور آغا محمود شاہ

ایران بارڈر کی بندش عوام کا معاشی قتل ہے، مولانا عبدالواسع اور آغا محمود شاہ
فائل فوٹو: پاک ایران سرحد تفتان پر آمدورفت — تصویر: بشکریہ balochistanpulse.com

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اسلام آباد میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس کے بعد اراکین کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ایران بارڈر کی بندش، افغانستان کے ساتھ پہلے سے بند سرحدی راستوں، غیر ضروری چیک پوسٹوں کی بھرمار اور قومی شاہراہوں پر چیکنگ کے نام پر تاجروں اور مسافروں کو ہراساں کرنے اور تذلیل کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی بدامنی، بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی بدحالی کا شکار ہے، ایسے میں ایران بارڈر کی بندش اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا لاکھوں افراد کے روزگار پر ضرب اور عوام کا معاشی قتل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی راستوں کی بندش کے بعد ایران کے ساتھ تجارت محدود کرنے سے بلوچستان کی معیشت مفلوج ہوکر رہ جائے گی اور سرحدی علاقوں میں آباد عوام کے لیے روزگار کے مزید دروازے بند ہوجائیں گے۔

جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل آغا محمود شاہ نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے عوام، تاجروں، مزدوروں اور ٹرانسپورٹرز کو معاشی مشکلات سے دوچار کرنا کسی طور دانشمندانہ پالیسی نہیں، جبکہ قومی شاہراہوں پر چیکنگ کے نام پر شہریوں اور تاجروں کو گھنٹوں انتظار، غیر ضروری پریشانی اور تضحیک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو محصور کرکے ترقی اور خوشحالی کے دعوے بے معنی ہیں، کیونکہ سرحدی تجارت صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے ہزاروں خاندانوں کا چولہا جلتا ہے۔ ان کے بقول حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کے معاشی ذرائع محدود کرکے محرومیوں میں اضافہ کررہی ہے۔

مطالبات

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ایران بارڈر کی بندش کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے، افغانستان کے ساتھ بند تجارتی راستے کھولنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور قومی شاہراہوں پر غیر ضروری چیک پوسٹوں اور چیکنگ کے نام پر تاجروں و مسافروں کو ہراساں کرنے اور ان کی تذلیل کا سلسلہ بند کیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بلوچستان کے عوام کے معاشی حقوق، روزگار اور آزادانہ تجارتی سرگرمیوں کو مسلسل محدود کرنے کی پالیسی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت فوری طور پر عوامی مشکلات کا ازالہ کرتے ہوئے سرحدی تجارت کی بحالی یقینی بنائے۔

موضوعات: