خضدار کی کھلی کچہری میں شہریوں نے امن و امان، صحت، تعلیم اور پانی کے مسائل اٹھائے

خضدار: ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ کونسل ہال خضدار میں منعقدہ کھلی کچہری میں شہریوں نے ترقیاتی منصوبوں سمیت صحت، تعلیم، آب نوشی، بجلی، امن و امان، سڑکوں، زراعت اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل کھل کر بیان کیے۔ متعلقہ حکام نے متعدد شکایات کا موقع پر نوٹس لیا، بعض مسائل کے فوری حل کے اقدامات کیے اور دیگر معاملات متعلقہ محکموں کو بھجوا دیے۔
کھلی کچہری وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے عوام دوست وژن کے تحت منعقد ہوئی۔ اس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ نے کی، جبکہ ایف سی قلات اسکاؤٹس کی نمائندگی میجر اسرار نے کی۔ ڈی ایس پی خضدار محمد عالم لہڑی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر رئیس علی احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر محمد انور زہری، ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر عبدالقیوم، پی ایچ ای کے انجینئر نصراللہ، سینئر پولیس آفیسر عبدالحق نوتانی سمیت مختلف محکموں کے افسران بھی شریک تھے۔
امن و امان پر تشویش
شہریوں نے BSDI فیز سمیت ترقیاتی امور کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، واٹر سپلائی، بجلی، سڑکوں، زراعت، امن و امان، منشیات اور منچلوں کی موٹر سائیکل ون ویلنگ سے متعلق مشکلات حکام کے سامنے رکھیں۔ جمعہ خان شکرانی نے امن و امان پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال اس حد تک مشکل ہے کہ “ہم کرخ بھی آیت الکرسی پڑھتے ہوئے جاتے ہیں۔”
حافظ جمیل ابرار، غلام قادر چھٹہ، آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری قدیر زہری، صحافی بشیر احمد رئیسانی، طلحہ قمر اور دیگر نے بھی شہر کے مسائل بیان کیے اور خصوصاً صحت، تعلیم اور واٹر سپلائی کے مستقل حل کا مطالبہ کیا۔
سماجی کارکن غلام قادر چھٹہ نے پریس کلب کے بانی اور موجودہ نائب صدر علی شیر ناز کے لیے آواز اٹھائی، جو شدید علیل ہیں اور چھ ماہ سے بستر پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سینئر صحافیوں ماما حیدر موسیانی، بشیر احمد رئیسانی اور دانش مینگل کی سوشل میڈیا مہم سے چار لاکھ روپے سے زائد جمع ہوئے، تاہم اب ان کا سرکاری سطح پر کسی اچھے ہسپتال میں علاج ضروری ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ جلد از جلد علی شیر ناز کا کسی بڑے ہسپتال میں سرکاری سطح پر علاج ممکن بنایا جائے گا۔
اسسٹنٹ کمشنر عبدالحفیظ کاکڑ نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور موقع پر موجود افسران کو شکایات کے ازالے کی ہدایات جاری کیں، جبکہ محکموں کے افسران نے شہریوں کے سوالات کے جواب دیے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ کھلی کچہری میں پیش کیے گئے مسائل پر باقاعدہ پیش رفت اور فالو اَپ بھی یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو عملی ریلیف مل سکے۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











