کوئٹہ: اے این ایف نے گاڑی کے خفیہ خانوں سے 25 کلو ہیروئن برآمد کرلی
کوئٹہ: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کوئٹہ میں ایک گاڑی سے 25 کلوگرام اعلیٰ معیار کی ہیروئن برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ اے این ایف کے مطابق برآمد شدہ منشیات کی مالیت 3 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ کے قریب مشرقی بائی پاس سے متصل علاقے میں کی گئی۔
خفیہ خانوں میں چھپائی گئی منشیات
اے این ایف حکام کے مطابق گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اس میں انتہائی مہارت سے تیار کیے گئے خفیہ خانوں سے ہیروئن برآمد ہوئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق منشیات کو اس انداز سے چھپایا گیا تھا کہ معمول کی جانچ پڑتال کے دوران اس کی موجودگی کا پتا لگانا مشکل ہو سکتا تھا۔
منشیات قبضے میں لے کر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ واقعے سے متعلق مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
اے این ایف کے مطابق افغانستان کے سرحدی علاقے برامچہ سے منسلک مبینہ منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک بلوچستان کے راستے منشیات سندھ اور پنجاب منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی منشیات کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
بلوچستان کے راستے اور چیلنج
بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے اہم محل وقوع رکھتا ہے اور اس کے مختلف راستے ملک کے دیگر حصوں سے رابطے اور تجارتی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان راستوں کو منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے لیے استعمال ہونے سے روکنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اہم چیلنج ہے۔
اے این ایف کے مطابق برآمد شدہ ہیروئن کی مقدار اور مالیت کے پیش نظر یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ کے مبینہ نیٹ ورک کے خلاف اہم پیش رفت ہے۔ تاہم گرفتار ملزم کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین قانونی کارروائی اور عدالتی عمل کے ذریعے ہوگا۔
اینٹی نارکوٹکس فورس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے لیے استعمال ہونے سے روکنے اور منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے سدباب کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ادارے کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے ساتھ نوجوان نسل کو منشیات کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنا بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔
حکام نے منشیات کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اہمیت رکھتا ہے۔ حالیہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے۔











