فلسطینی اتھارٹی کا مغربی کنارے میں شدید ردعمل کا انتباہ، جبریل الرجوب

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی اتھارٹی نے فلسطینیوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور حملوں کے پیش نظر مغربی کنارے میں شدید ردعمل سے خبردار کیا ہے۔
عرب ٹی وی کے مطابق فتح تحریک کے سیکرٹری جنرل جبریل الرجوب نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ ایک آتش فشاں ہے جو جلد یا بدیر پھٹ پڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کا مقابلہ پرامن طریقے سے ہونا چاہیے۔
پرامن جدوجہد پر زور
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں فوج اور آبادکاروں کی طرف سے انسانوں، درختوں، پتھروں، مسجد اور چرچ کے خلاف کی جانے والی دہشت گردی شدید ردعمل اور دھماکہ خیز صورتحال کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں پرامن اور تشدد سے پاک جدوجہد کا اپنایا جانا تمام فلسطینیوں کے لیے ایک ضرورت اور سٹریٹجک انتخاب بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خون ریزی اب قابل قبول آپشن نہیں رہی، نہ ہی اسے کسی قومی آپشن کا حصہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دھڑوں نے پی ایل او کے ذریعے سیاسی نمائندگی کی وحدت اور ایک ہی اتھارٹی، ایک ہی قانون اور ایک ہی قانونی اسلحے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کسی بھی فلسطینی گروپ کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ جمہوری فریم ورک اور قومی اداروں سے ہٹ کر فلسطینی عوام پر اپنا ذاتی ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کرے۔
انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی اہداف کا حصول سیاسی اور سفارتی تصادم کو اپنانے سے ہوگا۔ انہوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں حال ہی میں ہونے والے مذاکرات کی طرف اشارہ کیا، جس کا مقصد غیر متشدد ذرائع سے قابض اسرائیلی انتظامیہ کا مقابلہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فتح تحریک نے اس اجلاس میں قومی شراکت کے لیے ایک جامع وژن اور قابض انتظامیہ کے مظالم کے باوجود اس کے پرامن مقابلے کے لیے وژن پیش کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی ایل او کی نظر میں ترمیم یا اس کے سیاسی پروگرام کو تبدیل کرنے کی خواہش بیلٹ بکسوں اور اس کے قائم کردہ قواعد کے مطابق پی ایل او کے اداروں میں شرکت کے راستے سے گزرتی ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی عسکریت پسند تنظیم کے ساتھ مکالمے کا مقصد تقسیم اور انتشار کی حالت کو ختم کرنا ہے۔
پس منظر
فلسطینی تنبیہ یورپی یونین کی جانب سے گزشتہ روز مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں، بشمول یورپی سفارتکاروں پر حملوں، کی مذمت کے ساتھ سامنے آئی۔
مغربی کنارے میں حالیہ مہینوں کے دوران فلسطینیوں اور ان کی املاک پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان میں زیتون کے باغات پر قبضہ اور کٹائی کے سیزن میں کسانوں پر حملے شامل ہیں۔
مشرقی القدس، جس پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے، کے علاوہ مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ 5 لاکھ سے زیادہ اسرائیلی ان بستیوں میں مقیم ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں تشدد کی کارروائیوں کے نتیجے میں 1100 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔











