گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں سیاسی انتقام کا الزام، بیرسٹر گوہر کا حکومت پر تنقید

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس کی آڑ میں پارٹی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں، تاہم انسدادِ دہشت گردی کو سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے، ورنہ سیاسی انتشار بڑھے گا۔
ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام گزشتہ چار برس سے خوف، بے چینی اور غصے کی کیفیت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ عزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کے بارہ ارکانِ قومی اسمبلی بدستور حراست میں ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ کا کوئی پتا نہیں۔ ان کے بقول کارکنوں کی گرفتاریاں اور چھاپے جاری ہیں اور صوبے میں پارٹی کے جھنڈے اتارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن وزیر اللہ کے بارے میں بھی کہا کہ ان کے ٹھکانے کی کوئی اطلاع نہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظربندی میں 30 روز کی توسیع کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علیمہ خانم سیاست میں سرگرم نہیں ہیں۔
سہیل آفریدی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں صوبے کی ذمہ داری سونپی تھی اور ان کی رائے میں انہوں نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ 24 نیوز ایچ ڈی کے مطابق انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ ہیں اور رہیں گے، اور قیادت کو ہٹانے کی کوشش ناکام ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ریاستی اداروں کے خلاف نہیں اور پاکستان و ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق ملک اور سیاسی نظام تعطل کا شکار ہے اور اختیارات چند ہاتھوں میں سمٹ گئے ہیں۔ وفاقی حکومت سے پارٹی کا فی الحال کوئی رابطہ نہیں، تاہم تعطل ختم کرنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔
ہم نیوز کے مطابق 11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی منظوری دی۔ وفاق نے سکیورٹی صورتحال کی خرابی اور انسدادِ دہشت گردی میں صوبائی حکومت کے ناکافی تعاون کو وجہ بتایا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے 15 اکتوبر کو قرارداد 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور کی۔ پی ٹی آئی نے اقدامات کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ پارٹی نے صوبائی تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھا ہے، جس میں جنید اکبر خان صوبائی صدر رہیں گے؛ ان کی غیر موجودگی میں سینیٹر نورالحق قادری اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔











