رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 13° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

سی آئی اے چیف سے صدر پوتن کی ملاقات سے انکار کی خبریں بے بنیاد ہیں: کریملن

سی آئی اے چیف سے صدر پوتن کی ملاقات سے انکار کی خبریں بے بنیاد ہیں: کریملن

یوری اوشاکوف نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق صدر پوتن اور سی آئی اے ڈائریکٹر کے درمیان ملاقات کا کوئی منصوبہ ہی موجود نہیں تھا، جان ریٹکلف نے اپنے دورۂ ماسکو کے دوران روسی انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

کریملن کے معاون نے کہا کہ یہ رابطے مکمل طور پر سرکاری اور خفیہ نوعیت کے تھے، اس لیے وہ ان میں ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بتانے یا ان پر تبصرہ کرنے کے مجاز نہیں۔

یاد رہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف 25 اگست کو ماسکو آئے تھے۔

اس سے قبل کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف بھی واضح کر چکے ہیں کہ امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ کا دورہ روس دونوں ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطوں کا حصہ تھا۔

روس کی فارن انٹیلی جنس سروس ایس وی آر کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے بھی تصدیق کی تھی کہ انہوں نے جان ریٹکلف سے ماسکو میں ملاقات کی، مختلف ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان کے درمیان اس نوعیت کے رابطے معمول کے پیشہ ورانہ کام کا حصہ ہوتے ہیں۔