ایران بارڈر کی بندش عوام کا معاشی قتل ہے، مولانا عبدالواسع اور آغا محمود شاہ

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اسلام آباد میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس کے بعد اراکین کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ایران بارڈر کی بندش، افغانستان کے ساتھ پہلے سے بند سرحدی راستوں، غیر ضروری چیک پوسٹوں کی بھرمار اور قومی شاہراہوں پر چیکنگ کے نام پر تاجروں اور مسافروں کو ہراساں کرنے اور تذلیل کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی بدامنی، بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی بدحالی کا شکار ہے، ایسے میں ایران بارڈر کی بندش اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا لاکھوں افراد کے روزگار پر ضرب اور عوام کا معاشی قتل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی راستوں کی بندش کے بعد ایران کے ساتھ تجارت محدود کرنے سے بلوچستان کی معیشت مفلوج ہوکر رہ جائے گی اور سرحدی علاقوں میں آباد عوام کے لیے روزگار کے مزید دروازے بند ہوجائیں گے۔
جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل آغا محمود شاہ نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے عوام، تاجروں، مزدوروں اور ٹرانسپورٹرز کو معاشی مشکلات سے دوچار کرنا کسی طور دانشمندانہ پالیسی نہیں، جبکہ قومی شاہراہوں پر چیکنگ کے نام پر شہریوں اور تاجروں کو گھنٹوں انتظار، غیر ضروری پریشانی اور تضحیک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو محصور کرکے ترقی اور خوشحالی کے دعوے بے معنی ہیں، کیونکہ سرحدی تجارت صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے ہزاروں خاندانوں کا چولہا جلتا ہے۔ ان کے بقول حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کے معاشی ذرائع محدود کرکے محرومیوں میں اضافہ کررہی ہے۔
مطالبات
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ایران بارڈر کی بندش کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے، افغانستان کے ساتھ بند تجارتی راستے کھولنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور قومی شاہراہوں پر غیر ضروری چیک پوسٹوں اور چیکنگ کے نام پر تاجروں و مسافروں کو ہراساں کرنے اور ان کی تذلیل کا سلسلہ بند کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بلوچستان کے عوام کے معاشی حقوق، روزگار اور آزادانہ تجارتی سرگرمیوں کو مسلسل محدود کرنے کی پالیسی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت فوری طور پر عوامی مشکلات کا ازالہ کرتے ہوئے سرحدی تجارت کی بحالی یقینی بنائے۔











