امریکا نے برطانوی اڈے فیئر فورڈ سے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے

لندن (اعتماد ڈیسک): امریکا نے برطانیہ کے فوجی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے ہیں۔ واشنگٹن نے اس کی وجہ نہیں بتائی، تاہم یہ قدم 27 ستمبر کے اس واقعے کے بعد اٹھایا گیا جب گلوسٹرشائر میں واقع اس اڈے کے قریب تین مشکوک گاڑیوں کی اطلاع پر پولیس طلب کی گئی تھی۔
اس واقعے میں لندن سے تعلق رکھنے والے 23 سے 25 سال عمر کے پانچ برطانوی شہریوں کو دہشت گردی کے الزامات میں حراست میں لیا گیا، جنہیں بعد میں ضمانت پر چھوڑ دیا گیا۔ بعد ازاں 25 سالہ چھٹے شخص کو، جو برطانوی-ایرانی شہری بتایا جاتا ہے، لندن میں دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری کے شبہے میں گرفتار کر کے ضمانت پر چھوڑ دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے اس تاثر کو رد نہیں کیا کہ یہ فیصلہ فیئر فورڈ کے واقعے کا ردعمل ہے، تاہم برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا گیا کہ یہ سیاسی نہیں بلکہ فوجی نوعیت کا عملیاتی فیصلہ تھا۔ برطانوی وزارت دفاع نے تبصرہ نہیں کیا۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا تھا کہ واقعے میں ایران کے کردار کے واضح اشارے موجود ہیں، جبکہ تہران نے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ معاملے میں واضح طور پر کسی غیر ملکی فریق کا ہاتھ ہے۔
فیئر فورڈ کئی دہائیوں سے امریکی فضائیہ کا پیشگی آپریشنل اڈہ ہے اور حالیہ مہینوں میں امریکی بمبار طیارے یہاں سے مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں کرتے رہے ہیں۔ جولائی میں ایران نے کہا تھا کہ اس کی سرزمین کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ اس کی افواج کے لیے جائز ہدف ہوگا۔











