کمشنر لسبیلہ سائرہ عطاء کا تعارفی اجلاس: ترقیاتی منصوبوں کی ماہانہ پیش رفت لی جائے گی، غیر حاضری برداشت نہیں

اوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطاء کی زیرِ صدارت ضلع لسبیلہ کے سرکاری محکموں کا تعارفی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سراج کریم بلوچ، تمام سرکاری محکموں کے افسران اور کے الیکٹرک منیجمنٹ کے ذمہ داران شریک ہوئے۔
ڈپٹی کمشنر حمیرا بلوچ نے ضلع میں بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، محکموں کی پیش رفت اور سی ایس آر کے تحت سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی بحالی کے لیے انتظامیہ کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کے تمام اسکولوں کے لیے فرنیچر اور سولرائزیشن کا منصوبہ بی ایس ڈی آئی کے تحت شروع کیا گیا ہے، تمام شیلٹر لیس اسکولوں کے لیے عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، ایجوکیشن سیکٹر کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے اور تمام بند اسکول آپریشنل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ رینٹ اسسمنٹ کمیٹی اور ڈسٹرکٹ کمپنسیشن کمیٹی فعال ہیں۔
ہر اسکیم کا معائنہ ہوگا
کمشنر نے ڈپٹی کمشنر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ پہلی تعارفی میٹنگ میں ترقیاتی اسکیمات کے زیرِ التوا رہنے اور محکمانہ امور پر ڈسٹرکٹ ہیڈز اور متعلقہ افسران کے درمیان کوآرڈینیشن کی کمی محسوس کی گئی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ افسران ترقیاتی منصوبوں کی فزیکل پروگریس مکمل کروائیں، ماہانہ پیش رفت لی جائے گی اور ہر اسکیم کا معائنہ کیا جائے گا تاکہ لسبیلہ ڈویژن کے لوگ تبدیلی محسوس کر سکیں۔
کمشنر نے واضح کیا کہ افسران کو سروس ڈیلیوری کرنا ہوگی، کمشنر آفس ان کی معاونت کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا، اور کسی بھی محکمے کے افسر کی جائے تعیناتی سے غیر حاضری یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایسی اسکیمات مرتب کی جائیں جن سے کمیونٹی مستفید ہو، اور کہا کہ چیف سیکرٹری کی واضح ہدایات ہیں کہ ترقیاتی منصوبے اجتماعی مفاد میں بنائے جائیں۔
کمشنر نے تمام افسران سے فرداً فرداً ان کے محکموں کے منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کی فزیکل و فنانشل پروگریس اور مجموعی کارکردگی، اور محکمہ خزانہ کے افسر سے ملازمین کے سروس امور کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے ہنگول کی ساحلی پٹی پر میرین لائف کے تحفظ کے لیے گجہ نیٹ اور ٹرالرز کی روک تھام کی مؤثر حکمتِ عملی اپنانے اور کوآرڈینیشن کمیٹی کے قیام کے احکامات بھی جاری کیے تاکہ چھوٹی مچھلیوں اور جھینگوں کی نسل کشی روکنے کا میکانزم بنایا جا سکے۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











