سانحہ زیارت کے شہید اے ٹی ایف اہلکار جانداد خان شبوزئی کی لورالائی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین

لورالائی: سانحہ زیارت میں وطن پر قربان ہونے والے اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) کے بہادر جوان شہید جانداد خان شبوزئی کی نمازِ جنازہ لورالائی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
نمازِ جنازہ میں کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ، ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد، اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر مختیار، اعلیٰ سول و عسکری حکام، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، انجمن تاجران کے نمائندوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید کے جسدِ خاکی کو سلامی پیش کی، جبکہ سول و عسکری قیادت نے تابوت پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔ شرکا نے شہید کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور ملک میں پائیدار امن کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
شہداء قوم کا سرمایہ اور وطن کا فخر
نمازِ جنازہ کے بعد اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ شہداء قوم کا سرمایہ اور وطن کا فخر ہیں، جن کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ شہید جانداد خان شبوزئی نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بہادری، فرض شناسی اور حب الوطنی کی روشن مثال قائم کی ہے۔
سول و عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گرد عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور ریاست دشمن قوتوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔
حکام نے کہا کہ سانحہ زیارت جیسے افسوسناک واقعات قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ ایسی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی اور دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور امن دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
شرکا نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











