ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی اور دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری

پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ 9 مئی کے دوران ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے اور توڑ پھوڑ کے کیس میں غیرفعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے مزید سماعت 4 نومبر تک ملتوی کر دی۔
بدھ کو جج ولی محمد کی عدالت میں سماعت ہوئی۔ ملزمان کے وکیل علی زمان ایڈووکیٹ نے مزید وقت مانگا۔ جج نے کہا کہ چالان جمع ہو چکا ہے اور ملزمان نامزد ہو گئے ہیں، اس لیے ان کے خلاف قانونی طور پر وارنٹ گرفتاری جاری ہوں گے۔
ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے چالان عدالت میں جمع کرایا، جس میں غیرفعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کو نامزد کیا گیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی ایڈووکیٹ کے مطابق پولیس تفتیش مکمل ہونے کے باوجود تقریباً چھ ماہ تک چالان عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو پشاور میں پرتشدد واقعات ہوئے تھے اور ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ کر کے اسے آگ لگائی گئی تھی۔ اس کیس میں 80 سے زائد ملزمان نامزد ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ واقعے کی فوٹیج میں سہیل آفریدی اور دیگر صوبائی وزرا موجود ہیں، اس لیے ملزمان کی شناخت نادرا اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے کرائی جائے۔ عدالت نے نادرا اسلام آباد اور پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور سے ویڈیو اور تصاویر کی فرانزک رپورٹس حاصل کیں۔ کرائم سین کی فوٹیج کا فرانزک تجزیہ بھی کرایا گیا، جس میں ملزمان کی موقع پر موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر غیرفعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔











